Sunday, 15 May, 2005, 09:58 GMT 14:58 PST
دوڑ تو نہ ہو سکی، تاہم اس موقع پر پولیس، میراتھن کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان دھینگا مشتی ضرور ہوئی۔ یہ تصویر اسی موقع پر لی گئی۔
| آپ کے عنوانات |
سید لطیف حیدر، مردان:
آخر یہ خاتون کرنا کیا چاہتی ہیں؟
محمد رضوان، ایبٹ آباد:
آدھا تیتر آدھا بٹیر
فاروق بھٹی، راولپنڈی:
کّواچلا ہنس کی چال ۔۔
محمد عمران،لندن:
میں نہ مانوں ہار
ثناءخان، کراچی:
بہت اچھل رہی تھی دوڑنے کے لیے، اب تو تیرے کاندھے نکال کے ہی چھوڑیں گی ہم۔
حسین شامیر،ایران:
بی بی کہاں سے آئی ہو، جانا کہاں ہے، اور تمہیں کون بھگا رہا ہے۔
سلطانی، برطانیہ:
آج نہیں چھوڑوں گی۔
ہارون مروت، ٹانک:
قسم سے میں خود نہیں آئی، مجھے تو روشن خیال خواتین بھگا کے لے آئیں۔
قمر زمان خان، صادق آباد، پاکستان:
بیگم صاحب نے مجھے اس کام کے پیسے نہیں دیے تھے۔
قیصر زبیر، راولپنڈی:
کیا یہ پاکستان ہے؟
عمران سامی، ابوظبی:
آج نہ دوڑی تو مر جاؤں گی۔
آغا قزلباش، فرانس:
ہے جذبہ جنون تو ہمت نہ ہار
افسر زیب خان، افغانستان:
چھوڑ دو آنچل، زمانہ کیا کہےگا
بے روزگار بابا، پاکستان:
جانے دو جانے دو مجھے جانا ہے۔۔
ہارون مروت، ٹانک:
جب تک مشرف صاحب میرے ساتھ نہیں دوڑیں گے میں ایک قدم پیچھے نہیں ہٹوں گی۔
آصف خان، مردان:
مجھے چھوڑو ریس ختم ہو جائےگی۔
مصباح ملک، سعودی عرب:
دم ہے تم دونوں میں توگِرا کے دکھاؤ مجھے
محمد علی پہنوار، خیرپور:
یوں ہی کھلائے ہیں ہم نے آگ میں پھول۔۔
ظفر خان، چارسدہ:
چھوڑو بش صاحب میرا انتظار کر رہے ہیں
ڈاکٹر نعیم میمن، امریکہ:
میری پاری نندو، مجھے ساس کے پاس نہیں جانا
محمد عبید اللہ، فیصل آباد:
روشن خیالی کی برکات
عبدا لحنان چودھری،فیصل آباد، پاکستان:
ابےمیرا چہرہ دوسری طرف کرو، دیکھتے نہیں کیمرہ تواُدھر ہے
عثمان خامد، لاہور:
کشتی اور میراتھن، جنم جنم کا ساتھ
اظہر عرفان، برطانیہ:
مشرف صاحب کا ٹوپی ڈرامہ، کبھی ریس کرانی ہے کبھی روکنی ہے۔
بلال احمد، گجرات:
کیمرہ مین صاحب کو اپنی فلم کی شوٹنگ کی پڑی ہوئی ہے۔
سلمان منشی، مونٹریال:
ہائے رام، باجی میں تو بڑا دم ہے۔
حسن بلوچ، ٹورانٹو:
اوئے میری چپل۔
شاہ رخ خان، اوسلو، ناروے:
مجھے وقت کے ساتھ چلنا ہے، مجھے جانے دو۔
شاہ فیصل، صوابی:
ایک منٹ پکڑے رکھنا، میڈم کی تصویر بنانی ہے۔
شریف، فرینکفرٹ، جرمنی:
مجھے چھوڑ دوں مجھے جانا ہے اپنے دوستوں کے پاس۔
رضوان صدیقی، آکلینڈ، نیوزی لینڈ:
اللہ کا واسطہ مجھے چھوڑ دو، میرے پاس دینے کے لیے پیسے نہیں ہیں۔
ساجد احسن، العین،ابوظہبی:
میں بھی فوٹو بنواؤں گی۔
علیم اختر،گجرات:
گُھما کے رکھ دوں گی دونوں کو۔
بشارت احمد، لاہور:
پشتو فلم کا سین لگتا ہے۔
بابا پاکستانی، کراچی:
بھاگ چھنو بھاگ۔
انوار ہاشمی، لاہور:
جب تک تصویر نہیں ہو جاتی میں پولیس وین میں نہیں بیٹھوں گی۔
امجد اقبال، لاہور:
میراتھن کی خاطر کشتی بھی کرنا پڑتی ہے۔
صالح محمد، راولپنڈی:
چاہوں تو دونوں کو پٹخ دوں لیکن ملک میں خاکی جہوریت ہے۔
اطہر احمد، سرگودھا:
جوگِرگیاوہ ہار گیا۔
عدنان مغل، ایبٹ آباد:
ہم ساہوتوسامنے آئے۔
جمیل:
چھوڑ دو مجھے، بھاگوں گی نہیں۔
کامران منور، لاہور:
ککلی ککلی، پگ میرے وِیردی۔
جبران حسنین، کراچی:
پلیز مجھے دوڑنے دو ناں۔۔ لڑکوں کے ساتھ۔
شفیق نواز، کینیڈا:
چھوڑو مجھے بھاگنے دو۔
رشید سلطان، کینیڈا:
چھوڑو مجھے، میرے پاس کشتی کے لیے کوئی وقت نہیں ہے۔
عبدا لسلام، تیمارگرہ:
روشن خیال پاکستان۔
شاہد علی، ٹورانٹو:
رضیہ بیچاری، چڑھ گئی پولیس کے ہتھے۔
رضا ہزارہ، کوئٹہ:
سال کی بہترین تصویر!
امجد، دوھا:
پورے پاکستان کی پولیس آجائے، میں ضرور دوڑوں گی۔
صغیر راجہ، سعودی عرب:
حوا کی بیٹی مال روڈ پر۔
شوکت بلوچ، سؤٹزر لینڈ:
ایک پر عزم خاتون۔
فرمان اللہ، مردان:
مجھے جانا ہے ۔۔پلیز
فرحان احمد، حیدر آباد، انڈیا:
وہ ’نظر‘ کی مِیرا، میں میراتھن کی مِیرا۔
شاہدہ اکرم، عرب امارات:
رسہ کشی۔خواتین پولیس بمقابلہ عوامی لیڈی
شیرین گل، پیرس، فرانس:
میں بھی سمارٹ ہونا چاہتی، مجھے میراتھن دوڑنے دو۔
محمدجاوید، برطانیہ:
تہمیں کس نے کہا جمہوریت آ گئی ہے؟
لبنٰی حفیظ، راولپنڈی، پاکستان:
اسے میں لے کر جاؤں گی
نہیں میری باری ہے۔
خالد محمود، کینیڈا:
پولیس میں آجاؤ، ہر روز میراتھن ہو گی۔
خالدہ حئی، لاہور:
چھوڑنا نہیں، تصویر بن رہی ہے۔