پاکستان اور انڈیا کے مابین نیشنل سٹیڈیم، کراچی میں کھیلا جانے والا پہلا ایک روزہ میچ انڈیا کی ٹیم نے پانچ رنز سے جیت لیا۔ جہاں انڈیا سے آنے والے مہمانوں اور ٹیم کی خوشی کی انتہا نہ تھی، وہاں کئی پاکستانی تماشائی دل گرفتہ بھی ہوئے اور کئی رو پڑے۔ تاہم انڈیا کی ٹیم کی جیت پر پاکستانی تماشائیوں نے کھڑے ہوکر انہیں داد دی۔
ایک پاکستانی فین کی یہ تصویر اس لمحے کی ہے جب انڈیا کی ٹیم نے میچ جیت لیا۔ اس کے لئے عنوان تجویز کیجئے۔ براہِ مہربانی اپنے عنوان کے لئے کم سے کم الفاظ کا انتخاب کیجئے۔
| آپ کے عنوانات |
اے زیڈ خان غازی، افغانستان
بےبس محبِ وطن
پرویز بلوچ، بحرین
میں خوش ہوں میرے آنسوؤں پہ نہ جا
قیصر مصطفٰی، جرمنی
نہ رو، سیریز اپنی ہے
یاسر علی، باٹا پور
بِلا عنوان
واجد عباس، دبئی
کاش میں میدان میں آ سکتی
اظہر خان
پلیز، پلیز، پلیز۔۔۔ڈونٹ گیو ایکسٹراز
وسیم رفیع، لاہور
پھر بھی دل ہے پاکستانی
محمد یومان، میرپور خاص
ہم تو دل سے ہارے
کاشف عمران، لاہور
اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں
طارق لطیف، کراچی
ٹینشن نہیں لینے کا
محمد حیدر اورکزئی، ہنگو
بہنو گھبرانا نہیں ہے، ہمارے کزنز جیتیں گے
ناصر خان، کینیڈا
دعا رنگ نہ لائی
فواد فراز، امریکہ
ابھی تو یہ پہلی منزل ہے، تم تو ابھی سے گھبرا گئے
عنبرین بنگش، ٹورانٹو
وقت اچھا بھی آئے گا لڑکی، غم نہ کر زندگی پڑی ہے ابھی
عنبر الیاس، ٹورانٹو
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
علی زیدی، نیو یارک
آہ میں نہ مانوں ہار، لینے کو ہیں بدلہ بےقرار
لیاقت علی خان، میانوالی
پریشان نہ ہو، اگلا میچ تے ساڈا ای ہوسی
نوشاد منظور، سنگاپور
ملک سے محبت کا عکس
بلال احمد کہلون، سانگلہ ہلز
دنیا یہیں پہ ختم نہیں ہوتی
عمران اختر، نیو یارک
اِک دل کے ٹکڑے گیارہ ہوئے
رضوان احمد بھٹی، ٹورانٹو
گرتے ہیں شہسوار ہی میدان جنگ میں، وہ طفل کیا گرے گا جو گھٹنوں کے بل چلے
عامر رفیق، لندن
ہائے امی جی میں پورے وی روپے کی شرٹ ہار گئی
احمد نواز، مونٹریال
میرے اللہ ٹوٹی کہاں پہ آ کے کمند
جہانزیب گورایا، وزیرآباد
ارے تم کیوں روتی ہو؟ رونا تو معین خان کو چاہئے
عثمان ڈیوڈ
دشمن کو اصل جنگ میں شکست دیں گے
عمر مختار، لاہور
کاش۔۔۔ پنڈی ایکسپریس کی زنجیر نہ کھنچتی
کامران، پشاور
گرتے ہیں شہسوار ہی میدان جنگ میں
محمد آفاق، بریڈفورڈ
کاش میں انڈین فین ہوتی
یاسر نقوی، کراچی
نہ رو، اگلی جیت ہماری ہو گی
حمدان اکرم، پاکستان
محنت بھی کی، پھل بھی نہ ملا
تہمینہ، پاکستان
اوہ گاڈ! ناٹ اگین
شکیل الرحمٰن، پشاور
سوچا تھا کیا اور کیا ہو گیا