http://bbc.com.im/urdu/

Saturday, 25 November, 2006, 16:18 GMT 21:18 PST

سمیرا اسلم
کابل

افغانستان ڈائری: ’پتہ نہیں ترقی کسے کہتے ہیں؟‘

کابل میں طالبان کی حکومت ختم ہوئے پورے پانچ سال ہو چکے ہیں۔ پانچ سال بعد ٹھیک اسی دن یعنی تیرہ نومبر کو میں پاکستان سے ڈپورٹ کیے گئے بیس افغانیوں کے ساتھ جب کابل ایئرپورٹ پر اتری تو کرزئی اور احمد شاہ مسعود کی تصویروں کے علاوہ موبائل فون کمپنی کے ایک بڑے سے بورڈ نے خوش آمدید کہا۔

ایئرپورٹ پر کنویئر بیلٹ نہیں چل رہی تھی۔ بڑی دھکم پیل کے بعد سامان حاصل کیا۔

ائیرپورٹ سے نکل کر اندرا گاندھی چلڈرن ہسپتال کے پاس سے ہوتے ہوئے میں سیدھی بی بی مہرو پہاڑی پر پہنچی۔ یہاں سے آدھا شہر، آدھا گاؤں، یعنی پورا کابل نظر آ رہا تھا۔

طالبان کی حکومت کے بعد کیا کیا بدلا، بی بی سی کی ٹی وی ٹیم اسی بارے میں وہاں سے لائیو پروگرام کر رہی تھی۔ لیکن سردی زیادہ تھی اس لیے میں کابل نہیں رکی اور ہوٹل آگئی۔

پتہ نہیں ترقی کسے کہتے ہیں؟
 اوپر آٹھویں منزل پر ایک سمینار ہو رہا تھا۔ موضوع تھا افغانستان میں عورتوں کا خود کو آگ لگا کر ہلاک کرنے کے واقعات میں اضافہ کیوں ہو رہا ہے۔
 

سنگ مر مر کے چمکتے ہوئے فرش اور شیشے کی دیواروں والے آٹھ منزلہ ہوٹل کے رسپشن پر بیٹھے حیدرآباد دکن کے محمد نے مجھے کمرے کی چابی تھماتے ہوئے کہا ’میڈم ہیلتھ اینڈ فٹنس کلب کا فری استعمال بھی آپ کر سکتی ہیں، لیڈیز ٹائم بارہ سے تین بجے‘۔

اوپر آٹھویں منزل پر ایک سمینار ہو رہا تھا۔ موضوع تھا افغانستان میں عورتوں کا خود کو آگ لگا کر ہلاک کرنے کے واقعات میں اضافہ کیوں ہو رہا ہے۔

پتہ نہیں ترقی کسے کہتے ہیں؟

پاکستان کی طرح یہاں بھی موبائل فون نیٹ ورک اور ٹی وی چینلوں کی بھرمار ہے۔ سٹار موویز پر کوئی فلم چل رہی تھی۔ کچھ امریکی نوجوان یورپ کے کسی نیوڈ بیچ پر سیر کر رہے تھے۔

ہوٹل سے باہر نکلو ایک گندی نالی ٹاپو تو پھر کابل آ جاتا ہے۔ دھول سے آتی ہوئی کچھ کچی کچھ پکی سڑکیں، ایک ہی شہر میں کچھ کچے اور کچھ پکے مکان، ہر عمارت کے آگے بندوق اٹھائے پہرے دار اور شہر کے بیچوں بیچ یو ایس ایڈ کا بورڈ جس پر لکھا تھا قطرہ قطرہ دریا مے شواد ( قطرہ قطرہ مل کر دریا بنتا ہے)

سمجھ میں نہیں آتا کہ افغانستان کے لیے ہمیشہ قطرہ قطرہ ہی کیوں؟

کامران کامی، اسلام آباد، پاکستان:
اللہ کرے امن ہو جائے افغانستان میں۔ ترقی صرف امداد سے نہیں ہو سکتی، ترقی جبھی ہوگی جب افغانستان میں صنعتیں قائم ہوں گی۔ اس کے لئے امن اور اتفاق بھی ضروری ہے۔

حیدر اورکزئی، پشاور، پاکستان:
سمیرا نڈر صحافی ہیں۔ میری ان سے ایک درخواست ہے کہ وہ اس بارے میں ضرور لکھیں کہ کابل کے لوگ پاکستان کے خلاف کیوں ہیں۔

اسداللہ خان، کابل، افغانستان:
درحقیقت افغانستان میں ترقی ہوئی ہے لیکن صرف ان کے لیئے جن کے پاس امریکہ، یورپی یونین یا آسٹریلیا کی شہریت ہے۔ اس کے علاوہ کرپشن، جہالت اور خود کش حملوں میں بھی بہت ترقی ہوئی ہے۔ امریکی فوجیوں کے استعمال لیئے منرل واٹر، فاسٹ فوڈ بھی دستیاب ہے جن کا خرچ افغانستان کی وزارت خزانہ کو برداشت کرنا ہوتا ہے۔

انڈیا سے ملنے والی امداد پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے کیونکہ انڈیا اپنے کونسل خانے پاکستان کے ساتھ سرحد کے قریب کھول رہا ہے۔

کابل شہر میں سڑکوں، صفائی اور پانی کی سہولیات کا بہت برا حال ہے۔ یہی حال ملازمتوں کا ہے، میٹرک پاس افراد بڑے عہدوں پر ہیں کیونکہ ان کے تعلقات وزیروں اور قبائلی سرداروں سے ہیں۔

فہیم، ایماڈورا، پرتگال:
طالبان کی بڑھتی ہوئی تعداد کو ترقی کہتے ہیں یا پھر عورتوں کا خود کو آگ لگانے کو، کیونکہ پچھلے عرصہ میں تو افغانستان میں یہی ترقی دیکھنے میں آئی ہے۔

تنویر احمد، سری نگر، انڈیا:
امن سے ہی ترقی ممکن ہے اس لئے افغانستان کے لوگوں کو صرف امن کی ضرورت ہے۔ افغانستان کے اندرونی معاملات میں کسی قسم کی بیرونی دخل اندازی نہیں ہونی چاہیئے۔

کابر خان احمدزئی، کابل:
کابل کا حال میں نے پانچ سال تک وزارت تعلیم میں کام کر کے دیکھ لیا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ کتنے ڈالر خرچ ہو چکے ہیں لیکن جب میں کابل شہر کو دیکھتا ہوں تو کچھ بھی نظر نہیں آتا۔سارا افغانستان ویسا ہی ہے جیسا پہلے تھا اور وہی حال عورتوں کا ہے۔ لوگ سردی سے مر رہے ہیں، کب تک افغانستان ایسا ہی رہے گا؟

لیاقت علی، برمنگھم، برطانیہ:
یہ ڈائری پڑھنے کے بعد لگا کہ سمیرا کی فارسی کمزور ہے۔ ان کا خیال ہے کہ انہوں نے بورڈ پر لکھے پورے پیغام کا مطلب سمجھا ہے لیکن یہ غلط ہے۔ سچ یہ ہے کہ وہ پورے پیغام کو نہیں سمجھ سکیں جو کہ افغانستان میں تعلیم کے بارے میں ہے اس میں کہا گیا ہے کہ ہر افغان لڑکی کی تعلیم ایک قطرہ ہے جس سے مل کر سمندر بنے گا۔