Tuesday, 25 July, 2006, 17:05 GMT 22:05 PST
ہندوستان کی آزادی اور تقسیم ہند کے بعد کی دہائی کو اکثر ہندی اُردو سنیما کی گولڈن ایج کہا جاتا ہے۔ لیکن سنیما کے اس سُنہرے دور کو صرف چار ڈائریکٹرز کے نام سے جوڑا گیا ہے اور وہ ہیں محبوب خان، بمل رائے، راج کپور اور گُرو دت۔
اس بات پر اتفاق شاید مشکل ہے کہ یہ گولڈن ایج کس فلم سے اور کب شروع ہوئی، لیکن یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ 1960 میں بنی کے عباس کی فلم مغلِ اعظم کے ساتھ سنیما کا یہ کلاسیکل دور ختم ہوتا ہے۔ اکثر لوگوں کا ماننا رہا ہے کہ یہ گولڈن ایج چالیس کی دہائی میں شروع ہوئی اور ساٹھ کی دہائی میں جا کر ختم ہوئی۔ پر ہندوستانی سنیما کے اس کلاسیکل دور کو پچاس کی ہی دہائی سے وابستہ کیاگیا ہے، کیوں کہ اس دور کے بڑے ڈائریکٹرز کی زیادہ تر کامیاب فلمیں پچاس کی دہائی میں ہی بنی۔ اس لیے اس دہائی کو ہندوستانی فلم تاریخ میں ’گولڈن فِفٹیس‘ کہا جاتا ہے۔
سنیما کے اس دور کوصرف چار ڈائریکٹرز تک محدود رکھنے میں فلم جرنلسٹس اور کرٹکس کافی حد تک ذمہ دار ہیں۔ اُن پہ فرانس میں مشہور ’آوٹیر تھیوری‘ کا کافی اثر تھا۔ اس تھیوری کے مطابق ایک ڈائریکٹر اپنی فلم ٹھیک اسی طرح تحریر کرتا ہے جیسے کہ ایک افسانہ نگار اپنی کہانی۔ یعنی ایک ڈائریکٹر کے بغیر ایک فلم کا کوئی وجود نہیں۔ فلم کے سارے مقصد اور مطلب ڈائریکٹر کی ذات اور اُس کے نظریات سے ہی جڑے ہوتے ہیں۔ اس سوچ کے تحت الفریڈ ہِچکاک، جان فورڈ اور فرِٹز لینگ جیسے ڈائریکٹرز کو مغربی ملکوں میں ’جینئیس‘ کا درجہ عطا کیا گیا۔
![]() | |
| ہندی اُردو سنیما کی گولڈن ایج |
پر بھلا ففٹیس کی اس لسٹ میں وی شانتارام کا نام موجود کیوں نہیں؟ اس کی ایک وجہ شاید یہ بھی ہو سکتی ہے کہ انھوں نے پچاس کی دہائی سے پہلے بھی فلمیں بنائی تھیں۔ پر محبوب خان نے بھی کئی فلمیں 1950 سے پہلے بنائیں۔ محبوب خان کی ہی طرح وی شانتارام کی کئی فلمیں پچاس کی دہائی میں رِلیز اور ہٹ ہوئیں۔
وجہ جو بھی رہی ہو، ہم اس دور کا تذکرہ وی شانتارام کی ہی فلموں سے شروع کرینگے۔ اس سے پہلے کہ ہم وی شانتارام کی فلموں پر بات کریں یہاں یہ کہنا بھی ضروری ہے کہ اس گولڈن دور کے عظیم ڈائریکٹرز کی لسٹ میں بنگالی سنیما کے اُن ڈائریکٹرز کو بھی شامل نہیں کیا جاتا جن کا ہندوستان کی فلم تاریخ پر اتنا ہی گہرا اثر رہا ہے جتنا کہ گرو دت یا راج کپور کا۔ وہ ہیں ستیاجیت رے اور رِتوِک گھٹک۔ بھلے ہی اُنہوں نے ممبئی فلم کی طرز پر اور ہندوستانی زبان میں اپنی فلمیں نہ بنائی ہوں پھر بھی ستیاجیت رے اور رِتوِک گھٹک کی اسی دہائی میں بنی فلموں نے انڈین فلم میں ایکسپیریمنٹ کے راستے کھولے۔ یہ ایک الگ بات ہے کہ چند ڈائریکٹرز کی خود فہمیوں اور خود غرضی کی وجہ سے اس طرح کی فلمیں سوائے چند لوگوں کے اور کسی کو پسند نہیں آئیں۔
ہم اِس دور سے ایک بار پھر گزرتے ہیں اور سب سے پہلے ذکر وی شانتا رام کا کرینگے۔ کیوں کہ اس دور کے ان نظریاتی پہلوؤں کو سمجھنا بہت ضروری ہے جن کی وجہ سے فلم کو ایک آرٹ مانا گیا اورفلم ڈائریکٹر کو ایک آرٹسٹ۔ اس دور میں فلم آرٹسٹ اپنی ذمہ داریوں کو اپنے آڈئینس سے بہتر پہچانتا تھا مگر پھر بھی اسی دور نے ہمیں ہندوستانی سنیما کی سب سے کامیاب فلمیں پیش کیں۔
آج یہ یاد کرنا ضروری نہیں کہ پروگریسیو ہونا اس دور کا آرٹسٹ اپنی خاص ذمہ داری سمجھتا تھا۔ دنیا کو ہم نے گرو دت اور راج کپور کے لینس سے دیکھا تو بے حال زندگی میں بھی رومانس نظر آیا۔ گرو دت نے دیوداس کو ایک نئی اور سیاسی ہستی دی اور ہندوستانی فلم کو بیمار شہروں سے محبت ہو گئی۔ ہم اس لیے سب سے پہلے وی شانتارام کی بات کرینگے تاکہ ہم اُس موڈ سے یہ سفر شروع کریں جہاں سے ہندوستانی سنیما نے اپنی الگ راہ اختیار کی، جہاں سے سنیما میں بھی صبح آزادی کے ساتھ ساتھ مایوسی اور ناکامی کا نیا دور شروع ہوا۔