Saturday, 08 April, 2006, 13:16 GMT 18:16 PST
علی سلمان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
(یہ کہانی پہلی بار چھبیس جون دو ہزار تین میں شائع ہوئی تھی۔ دریا کہانی کی اس خصوصی سیریز کے لیے اسے پھر پیش کیا جا رہا ہے۔)
لاہور کے ایک کنارے سےگزرنے والے راوی کا پانی لوگوں کے لیےاگر زندگی کی نوید ہے تو موت کا پیغام بھی ہے۔ اسی راوی نے کئی زندگیوں کوبہا کر موت میں بدل دیا ہے اور پھر اس کی لہروں نے اپنی بے رحمی کا ثبوت نعشوں کی شکل میں کناروں پر اگل دیا ہے۔
راوی کا یہ دریا اپنی سنگ دلی کے جو نقوش کناروں پر چھوڑتا ہے انہیں مٹانے کے لئے آدمی جو کچھ کرتا ہے وہ بھی کم نہیں۔ اگر دریا کی لہریں کسی جسم کو بہا کر کنارے تک لے آتی ہیں توانسان ایسی نعشوں کو واپس دریا بُرد کردیتا ہے کیونکہ وہ ان سے جان چھڑانا چاہتا ہے۔اور مردہ جسم کی حرمت سے متعلق تعلیم محض پولیس کے خوف سے فراموش کر دی جاتی ہے۔
دریاکے کنارے زندگی گزاردینے والے ایک ادھیڑ عمر ملاح محمد سلیم بتاتے ہیں: ’ہمیں جب بھی کوئی نعش نظر آتی ہے ہم اسے دریا میں بہا دیتے ہیں۔‘ اور یہی بات کم و بیش ہر اس ملاح نے بتائی جس سے یہ پوچھا گیا کہ کیا بھٹکی ہوئی ان نعشوں کو ورثا کے حوالے کیا جاتا ہے یا نہیں۔
محمد سلیم کے الفاظ ہیں: ’دریا میں بہہ کر آنے والی نامعلوم نعشوں کو ہم ملاح لوگ نہیں چھیڑتے۔ جو نعش بہتی آ رہی ہوتی ہے اسے بہنے دیا جاتا ہے اور جو کہیں کسی خشک حصے میں پھنس جاتی ہے اس کے اوپر مزید مٹی ڈال دی جاتی ہے تاکہ اسکی بے حرمتی کم سے کم ہو۔‘
بے حرمتی کم سے کم ہو |
مسافروں کو بارہ دری تک لے جانے والے نوجوان ملاح محمد سلیم نے بتایا ’میں اور میرے ساتھی ایک سرکاری غوطہ خور کے ہمراہ حافظ یونس کی نعش ڈھونڈ رہے تھے کہ ہمیں ایک دس سالہ بچے کی نعش ملی۔ چونکہ اس نعش کی شناخت کرنے کے لیے کسی نے رابطہ نہیں کیا تھا لہٰذا اس بچے کی نعش راوی کے پانی کی ہی نذر کر دی گئی۔‘
ملاح سلیم بتاتے ہیں کہ روای سے ملنے والی کوئی نعش پولیس کی اجازت کے بغیر باہر نہیں نکالی جاسکتی کیونکہ ایسے برآمد ہونے والی نعشوں پر بھی پولیسں کی حدود کے تعین کا روایتی تنازعہ کھڑا ہوجاتاہے۔
’اس دریا کے مختصر سے حصے کو بھی چار تھانوں کی حدود میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پانی ایک تھانے کی حدود میں ہے تو کنارے کسی دوسرے تھانے کی حدود میں۔ کئی بار ایسا ہوا کہ کنارے لگی نعش پر تھانے کی حدود کا جھگڑا ہوگیا اور جب جھگڑے کے بعد ایک تھانے کی ٹیم واپس چلی گئی تو دوسری ٹیم نے خاموشی سے نعش دوبارہ دریا میں بہا دی‘۔
دریائے راوی پر تعینات محکمۂ شہری دفاع کے واحد غوطہ خور اللہ دتا کے اندازے کے مطابق راوی سائفن سے لے کر ھیڈ بلوکی تک ہر سال قریب قریب پچاس افراد ڈوب جاتے ہیں۔
ایک اور نوجوان ملاح شہباز کا کہنا تھا کہ’ دریا میں سیاحوں کے لیے کشتیاں چلانے والے خدا ترسی کے تحت ڈوبنے والوں کو بچاتے رہتے ہیں۔ اگر صرف ’حکومت کی جانب سے مامور ڈوبتے ہوؤں کو بچانے والوں‘ پر انحصار کیا جائے تو یہ تعداد بیس گنا سے بھی بڑھ جائے‘۔
’سرکاری بچانے والوں‘ سے مراد صرف ایک عارضی سرکاری غوطہ خور ملازم ہے جس کی ڈیوٹی پورے دریا کے لیے ہے اور جس کے پاس ڈوبتوں کو بچانے کے لیے ایک جانگیے کے علاوہ اور کوئی سہولت موجود نہیں۔
دریا کی حدود کا جھگڑا |
حافظ یونس کی نعش شاید اس لیے ان کے ورثا کو مل گئی کہ ایک سیاح نے ان کی نعش مٹی میں دبی ہوئی دیکھ لی تھی۔ غالباً اسی لیے انہیں کفن بھی نصیب ہوگیا اور ان کےگھر والوں کو صبر بھی آہی جائے گا۔ لیکن دریا میں ڈوبنے والے کئی ایسے بھی ہوتے ہوں گے جن کے گھر والوں کو یہ صبر نصیب نہیں ہوتا ہوگا اورنعش نہ ملنے کی وجہ سے وہ ساری زندگی ان کی واپسی کے معجزے کے منتظر رہتے ہوں گے۔
انہیں نہیں معلوم کہ یہ معجزہ کبھی نہ ہو سکے گا۔
یہ راز اگر کسی کو معلوم ہے تو صرف دریائے راوی کو جو ایک گواہ کی طرح مسلسل یہ دیکھ رہا ہے کہ اس کے کنارے سے ملنے والی نعشوں کو دریا کے سفر پر دوبارہ روانہ کردینے کا عمل بہت عرصے سے جاری ہے۔