Thursday, 09 February, 2006, 12:37 GMT 17:37 PST
ریحانہ بستی والا
بھارت کی جنوبی ریاست مہاراشٹر کا شہر ممبئی جسے اس ملک کا تجارتی دارالحکومت بھی کہا جاتا ہے اپنی کئی خصوصیات کے لئے پوری دنیا میں مشہور ہے ۔ایک کروڑ تیس لاکھ آبادی والے اس شہر کو تضادات کا شہر بھی کہا جاتا ہے ۔
یہاں زندگی کے کئی روپ ہیں کہیں آسمان کو چھوتی بلند و بالا عمارتیں ہیں تو وہیں اسی کے پاس جھگی جھوپڑیاں ہیں ۔امراء اور اعلی متوسط طبقہ کے پاس کروڑوں روپے مالیت کے اگر کئی فلیٹ ہیں تو کہیں کسی کے پاس سر چھپانے کے لئے چھت بھی نہیں۔ کھلے آسمان کے نیچے پوری زندگی گزر جاتی ہے۔
آپ کا یہ نظارہ دیکھنا ہے تو رات کے وقت ممبئی کے کسی علاقہ سے گزرئیے (پوش علاقوں کو چھوڑ کر ) فٹ پاتھ پر سوتے ہوئے لوگ مل جائیں گے ۔یہ ایسی زندگی کے عادی ہو چکے ہیں اس لئے رات بھر شور مچاتی گاڑیوں کی آواز بھی ان کی نیند میں خلل نہیں ڈال سکتی ہاں کبھی کبھی شراب کے نشے میں دھت ٹیمپو یا ٹرک ڈرائیور کا اسٹیرنگ پر سے توازن بگڑ جاتا ہے تو منٹوں میں ان کی زندگی ختم ہو جاتی ہے اور اخبار کے کسی کونے میں یہ خبر شائع ہو جاتی ہے ۔
ممبئی کا ٹریفک نظام سب شہروں سے اچھا ہے ۔یہاں کلکتہ اور دہلی کی طرز پر میٹر ریل تو نہیں ہے لیکن ممبئی کی لوکل ٹرینوں کا جواب نہیں ۔روزانہ تقریبا پچیس لاکھ مسافروں کو ان کی منزل تک پہنچانے کا کام کرتی ہیں لیکن آبادی زیادہ اور ٹرینیں کم نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لوگ ٹرینوں کی چھتوں پر بیٹھ کر یا دروازوں میں لٹک کر سفر کرنے پر مجبور ہوتے ہیں جس کے نتیجے میں روزانہ کے حادثات کی وجہ سے اوسط چھ اموات درج ہوتی ہیں دفتری اوقات میں اگر آپ ٹرین میں سفر کر رہے ہیں اور آپ کو اسٹیشن پر اترنا ہے تو آپ کو زحمت کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہو گی ڈبے کے اندر سے ہی ریلا آپ کو دھکا دے گا اور آپ کو پتہ نہیں ہو گا کہ آپ کس طرح پلیٹ فارم پر پہنچ گئے ۔صحیح ہے ممبئی میں رہنا کوئی مذاق ہے ؟
![]() | |
| گٹر کے پانی میں لوگ کپڑا دھوتے ہیں |
لیکن ماہم ، دھاراوی جیسے جھگی جھوپڑوں میں رہنے والوں کو روزانہ پانی کے لئے قطاروں میں کھڑا رہنا پڑتا ہے ۔پانی کے لئے مشترکہ نل ہوتے ہیں جہاں آپسی جھگڑوں میں اکثر قتل تک ہوتے ہیں ۔گٹر کے پانی میں لوگ کپڑا دھوتے ہیں راستوں میں بنے گڑھوں میں جمع پانی پینے کے لئے استعمال کرتے ہیں ۔پانی سپلائی کرنے والی پائپ لائن جس دن پھٹ جاتی ہے وہ دن ان لوگوں کے لئے عید یا دیوالی کا ہوتا ہے ۔
پانچ یا سات ستارہ ہوٹلوں میں ایک وقت کے کھانے کا بل اگر پانچ سے دس ہزا روپے ہوتا ہے تو ممبئی کے فٹ پاتھ پر یا کھانے کے اسٹال پر آپ کو ایک وقت کا کھانا دس سے بیس روپیہ میں مل سکتا ہے اور ایسا نہیں ہے کہ اس طرح کا کھانا صرف غریب مزدور ہی کھاتے ہیں بلکہ دفاتر میں کام کرنے والے سفید پوش بھی یہ کھانا کھاتے ہیں ۔ممبئی والوں کی ایک مخصوص ڈش ہے جس کا نام وڑا پاؤ ہے اسے آپ دیسی پزا کہہ سکتے ہیں ۔
ممبئی جسے کبھی ملوں کا شہر کہا جاتا تھا اب اسے مالز (شاپنگ مال) کا شہر کہہ سکتے ہیں ۔کپڑا ملیں بند ہو گئیں اور اس میں کام کرنے والے لاکھوں مزدور بے روزگار ہو گئے ۔کئی ہزار کروڑ میں فروخت ہونے والی ملوں پر مالکان بڑے بڑے تجارتی کامپلیکس اور شاپنگ مال بنا رہے ہیں ۔ایک اندازے کے مطابق آئندہ دو سے پانچ برسوں کے درمیان ممبئی میں ایسے دس مالز بن کر تیار ہو جائیں گے جہاں دنیا بھر کی برانڈ کمپنیوں کی اشیاء باسانی مل سکیں گی
ممبئی کے فقیروں کو آپ کسی طرح نہیں بھلا سکتے ہیں ۔ان کے پاس بھیک مانگنے کے کئی آرٹ ہیں اور اچھے سے اچھا ذی ہوش انسان آسانے سے بےوقوف بن سکتا ہے ۔یہ آپ کو ہر ٹریفک سگنل ٹرین کے ڈبے اور جگہ جگہ بیٹھے مل جائیں گے ۔ایک عورت گزشتہ بیس برسوں سے ممبئی کے مختلف ٹریفک سگنل پر گاڑی میں بیٹھے لوگوں سے یہ کہہ کر بھیک مانگتی ہے کہ وہاں ایک بوڑھی مر گئی ہے کفن دفن کے لئے پیسہ چاہئیے اور کئی سخی آسانے کے ساتھ پیسہ دے دیتے ہیں ان کی روزانہ کی آمدنی چار پانچ سو سے کم نہیں ہوتی ۔
![]() | |
| کہیں آسمان کو چھوتی بلند و بالا عمارتیں تو کہیں جھگی جھوپڑیاں ہیں |
![]() | |
| اس نے اپنے دامن میں سب کو سمیٹا ہے |