Friday, 07 October, 2005, 13:20 GMT 18:20 PST
قمر شہزادہ
منڈی بہاالدین ہسپتال
جب پہلا برسٹ ہوا تو میرے کان بالکل سن ہو گئے تھے۔ جب میں نے پیچھے دیکھا تو گولیوں کی بارش میری طرف آ رہی تھی۔ پہلے وہ لوگ گرے جو میرے دائیں طرف کھڑے تھے اور پھر جو میرے بائیں طرف کھڑے تھے گر گئے۔ پھر انہوں نے دوسرا برسٹ فائر کیا۔ اتنی دیر میں موٹر سائکل سٹارٹ ہوا اور وہ لوگ بیٹھ کر چلے گئے اور اندر ہمارا جو حال تھا وہ تو جو دیکھے گا وہی سمجھ سکتا ہے۔ پتہ نہیں اس کو کیسے وہ دیکھ سکتا ہے۔ اس سے زیادہ کیا کہوں کہ ہم نے تو قیامت دیکھی ہے اپنی آنکھوں کے سامنے۔
اتنا بڑآ حادثہ ہوا ہے۔ مجرم بھی فرار ہو گئے ہیں اور یہ نہیں کہ مجرموں کو پکڑ لیا ہے۔ میں اس مسجد میں بچپن سے نماز پڑھ رہا ہوں۔ آج سے پہلے ہمیں کبھی کسی خطرے کا احساس نہیں ہوا۔ اس سے پہلے علاقے میں کوئی خاص ٹینشن بھی نہیں تھی، لیکن جماعت کی طرف سے ہمیں یہ نثیحت ہے کہ آپ نماز پڑھیں تو ایک پہرے دار ضرور کھڑا کر دیں۔ واقعہ کے وقت وہاں نہ کوئی پہرے دار تھا نہ کوئی پولیس گارڈ۔ نارمل حالات میں تو سب بالکل نارمل ہوتا ہے۔ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ اتنا بڑآ حادثہ ہو جائے گا۔
موقعے پر ایک راجہ الطاف ہیں، ایک عابد ہے، بھائی اشرف کا بیٹا، دوسرا چاچہ اسلم ان کا چھوٹا بیٹا یاسر۔ یہ تو میرے ساتھ تھے اور وحید میرے ساتھ تڑپ رہا تھا۔ عدنان کو گولی لگی تھی۔ وہ بھی اس طرح تڑپ رہا تھا۔ عبدل تو میرے ہی ساتھ گاڑی میں یہاں آیا تھا۔ وہ بالکل میرے ساتھ تھا۔ ایک دفعہ اس سے تھوڑی سے ہائے کی آواز آئی اس کے بعد وہ فوت ہو گیا۔ مجھے ایک گولی گھٹنے میں لگی ہے، ایک میری بازو میں لگی ہے اور ایک میرے سینے کے ساتھ سے گزر گئی۔