Thursday, 11 August, 2005, 14:58 GMT 19:58 PST
یہ غزہ سے اسرائیلی انخلاء کے بارے میں دو فلسطینیوں کے تاثرات ہیں:
عبداللہ الغزاوی، غزہ کی پٹی
![]() |
بہر حال وجہ جو بھی ہو مجھے اسرائیلی انخلاء سے خوشی ہے۔
لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس انخلاء کو غزہ تک ہی محدود رہنا چاہیے۔ یہ غرب اردن میں رہنے والے فلسطینیوں اور ان فلسطینیوں کے ساتھ نا انصافی ہوگی جو پناہ گزینوں کی زندگی گزار رہے ہیں۔
انخلاء کے بعد اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ اسرائیل غزہ کو ایک جیل کی مانند نہ رکھے اور اس کی زمینی اور سمندری سرحدوں کو سیِل کر دے۔ غزہ میں معیار زندگی بہتر بنانے کے لیے مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔‘
اشرف ابو العرب، رملہ، غرب اردن
غزہ سے انخلاء کا منصوبہ داخلی، عرب اور عالمی رائے عامہ کو گمراہ کرنے کی سازش ہے۔
اسرائیل گنجان آبادی والے اس علاقے سے جان چھڑانا چاہتا ہے تاکہ وہ غرب اردن پر اپنی پکڑ مزید مضبوط کر لے۔ غرب اردن معاشی، تاریخی اور سیاسی اعتبار سے زیادہ اہم علاقہ ہے۔ غزہ سے نکالے جانے والے یہودی آبادکاروں کو غرب اردن منتقل کر دیا جائے گا۔
ہمیں اسرائیل کے سابق وزیر اعلی موشے دیان کے یہ الفاظ یاد رکھنے چاہئیں : ’کاش کہ میں ایک صبح جاگوں اور غزہ کو سمندر لے ڈوبا ہو۔‘
جہاں تک فلسطینی قیادت کا سوال ہے، تو شاید وہ غزہ سے اسرائیلی انخلاء کے بارے میں خوش ہوں۔ ہو سکتا ہے کہ اس سے عربوں، فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان تعلقات بہتر ہو جائیں، مگر اس انخلاء کے منفی اثرات سے نمٹنے کے لیے اور دس سال لگ جاییں گے۔