Thursday, 31 March, 2005, 15:58 GMT 20:58 PST
عبدالسلام
اناتا، غربِ اردن
اسرائیل نے جو دیوار تعمیر کی ہے اس نے ہمیں اپنی زمین اور خاندان سے جدا کردیا ہے۔
ہمیں اپنے انکل بہت یاد آتے ہیں جو مشرقی ہروشلم میں رہتے ہیں۔ میرے بچے اکثر پوچھتے ہیں کہ ہم ان سے کب ملیں گے۔ وہ یہ جانے بغیر ایک محبت کرنے والی ہستی سے محروم ہوگئے ہیں کہ وہ ایک ایسی اندھی طاقت کے غضب کا شکار ہیں جو ہماری ہی زمین پر قبضہ کرنے کے بعد مسلسل ہمیں دھکیل رہی ہے۔
یہودی منظم طور پر اس خطے میں ہمارے تاریخی آثار مٹا رہے ہیں اور اپنی موجودگی کا جواز بنانے کے لیے اپنے ماضی کی کہانیاں بنا رہے ہیں۔
اس دیوا نے مجھے تقریباً معذور اور بیروزگار بنا دیا ہے کیونکہ ہماری زیادہ تر جائداد مشرقی یروشلم میں ہے۔ شیرون حکومت نے اپنے مضحکہ خیز منصوبے کے ذریعے ایک سفارتی جنگ جیت لی ہے جو صرف عالمی برادری کو بے وقوف بنانے کی ایک سیاسی چال ہے تاکہ وہ عالمی حمایت کے ساتھ ہماری زمینوں پر قبضہ کرسکے اور اس کے باوجود معصوم دکھائی دے اور یہ کہ اسے ہمیں مراعات دینے کے لیے بہت مشکل فیصلے کرنے پڑ رہے ہیں۔
شیرون ہمیشہ ایک دغا باز رہے ہیں اور اس بار وہ ہمیں دنیا میں تنہا کرنے اور ساتھ ساتھ ہماری زمینیں ہتھیانے کے لیے اپنے دماغ کا استعمال کررہے ہیں۔
بہتر ہتھیار |
ہم یہ عدم تشدد کے ذریعے ممکن بنائیں جیسا کہ مہاتما گاندھی کے پوتے ارون گاندھی نے ہمیں یہاں اپنے ایک دورے کے دوران کرنے کی ہدایت کی۔ مجھے لگتا ہے کہ عدم تشدد پر یقین رکھنے میں زیادہ محنت درکار ہوتی ہے لیکن یہ پرتشدد بغاوت سے زیادہ بہتر ہتھیار بھی ہے۔
ہم نے باڑھ کے پاس پر امن مظاہرے کرنے شروع کر دیے ہیں اور ان کے اثرات ابھی سے نظر آنے لگے ہیں۔ اس پر دنیا بھر کی توجہ مرکوز ہوگئی ہے، یہاں تک کہ اسرائیل کے سب سے قریبی حلیف امریکہ کو بھی اس کا احساس ہورہا ہے اور اس نے اسرائیل سے کہا ہے کہ اس سے قبل کہ ساری دیوار کے معاملے پر غور ہونا شروع ہو اسے جلد از جلد کوئی ایکشن لینا چاہیے۔ مجھے یقین ہے کہ اسرائیل کو جھکنا پڑے گا۔
میرے بچے تکلیف میں ہیں اور انہیں ان مسائل سے گزرنا پڑ رہا ہے جن میں ان کا کوئی قصور نہیں۔ یہودی آبادی دھماکوں کی شکایت کرتی ہے جب کبھی کبھار ان کے اپنے پیارے اس کی زد میں آجاتے ہیں۔ شاید اس پار کی ماؤں کے سینوں میں ماں کا دل نہیں ہے۔ ذاتی مفاد نے انہیں اندھا کردیا ہے۔ ہمیں اور ہمارے بچوں کو روز اس جان لیوا تکلیف سے گزرنا پڑ جاتا ہے۔
ہر بار جب میرے بچے بھوکے ہوتے ہیں، میرا دل رونے کو کرتا ہے اور میں ایک دماغی کھیل کے ذریعے خود کو زندہ اور پرامید رکھنے کی کوشش کرتا ہوں۔ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ وہ ہولوکاسٹ کی باتیں کیسے کرسکتے ہیں جب وہ دوسروں کے ساتھ بالکل وہی کررہے ہیں جو ان کے ساتھ ہوا۔
دماغی کھیل اور زندگی |
ہم میں سختیاں برداشت کرنے کی زیادہ قوت ہے، لیکن اسرائیلیوں میں نہیں۔ اگر ایسا مزید کچھ سال تک ہوتا رہا تو اسرائیل کا زیادہ نقصان ہے۔ حال ہی میں حاصل کی جانے والی اپنی خوش حالی کی بدولت اسرائیلی ایک بہتر معیارِ زندگی کے عادی ہیں اور سختیاں برداشت نہیں کرسکتے۔ اگر یہ اسی طرح جاری رہا تو وہ ایک دن آپس میں لڑنے پر اتر آئیں گے۔
یہاں کی صورتِ حال دیکھتے ہوئے مجھے اپنے بچوں کا مستقبل بہت تاریک لگتا ہے۔ پڑھنے میں ان کا دل نہیں لگتا اور انہوں نے حالات کی وجہ سے ابھی سے کام ڈھونڈنا شروع کردیا ہے۔ اسرائیل کی طرف ان کا رویہ اتنا شدید جارحانہ ہے کہ ہمارا کبھی ایسا نہیں رہا۔
میرے پاس نہ جائیداد ہے، نہ رقم، لیکن انشاءاللہ ایسا ہمیشہ نہیں رہے گا۔ خدا حالات معمول پر لائے گا اور ہمیں اپنے حقوق ملیں گے۔ میں الاقصیٰ جاکر بغیر کسی خوف کے نماز پڑھ سکوں گا۔ چند مرتبہ میں الاقصیٰ میں نماز پڑھنے کی نیت سے چھپ کر گھستے ہوئے پکڑا جاچکا ہوں۔
خوشحالی کے عادی |