Saturday, 11 December, 2004, 18:11 GMT 23:11 PST
چیچنیا میں ایک عشرے سے جاری لڑائی کے اثرات جاننے کے لیے بی بی سی روسی زبان کی ویب سائٹ نے گزشتہ آٹھ دسمبر کو زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے چیچنیا کے باشندوں کو بات چیت کے لیے جمع کیا۔ ان لوگوں کا تعلق کسی بھی فریق سے نہیں ہے۔ چیچنیا کے دارالحکومت گروزنی میں ان عام باشندوں نے اپنی زندگی کے بارے میں بی بی سی روسی سروِس کے قارئین کے سوالوں کا جواب دیا۔ اس گفتگو کے کچھ اقتباسات حسب ذیل ہیں۔
ایڈگار اگوئلر، میسیکو: چیچنیا میں بچوں کی زندگی کیسے گزرتی ہے؟ وہ اسکول کیسے جاتے ہیں؟
ملانا ابویوا، غیرملکی زبانوں کی طالبہ: جنگ بچوں کے ساتھ بڑوں کی حیثیت سے پیش آتی ہے۔ بیسلان میں اسکول پر حملے کے بعد بچوں کے ذہنی حالات کے بارے میں ماہرین کی مدد لی گئی۔ میرا دس سالہ بھائی پوچھتا تھا: کیا ہمیں ماہر نفسیات کی ضرورت نہیں ہے یا ہمیں اس کی عادت پڑگئی ہے؟ مجھے نہیں معلوم کہ میں اسے کیا جواب دیتی۔
سٹیفین ڈیمسی، کینڈال: جنگ کے دوران زندگی کی مشکلات نے چیچن بچوں کے خیالات کو کیسے متاثر کیا ہے؟
سلیمہ گپایووا، پراپرٹی ڈیلر: دس سال کے دوران کئی بچے پیدا ہوئے، انہوں نے بچپن سے ہی جنگ دیکھی ہے۔۔۔ ہم انہیں ’جنگ کے بچے‘ کہتے ہیں۔ انہیں بچپن نصیب نہیں ہوا۔ وہ شروع سے ہی بڑے تھے۔ وہ بڑوں کی طرح سوچتے، بولتے اور رہتے ہیں۔ انہیں وہ کچھ نہیں مل رہا ہے جو عام خاندانوں میں بچوں کو ملتا ہے۔ ان کے خاندانوں کو غربت اور مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کی ذہنی حالت متاثر ہوئی ہے، جب وہ ٹی وی میں دیکھتے ہیں یا سنتے ہیں کہ دوسری جگہ ان کی عمر کے بچے کیسے رہتے ہیں تو ان کو بے بسی کا احساس ہوتا ہے،۔۔۔۔
رفیل کارابالو، امریکہ: کیا ضروری اشیاء جیسے پانی اور بجلی وغیرہ کی فراہمی صحیح ہے؟
ایڈم خانوکا ییو، بلڈر: پانی کی فراہمی بنائے رکھنا مشکل ہے، پائپ ٹوٹ گئے ہیں۔۔۔۔ بلیک آؤٹ یا پائپ پھٹنے سے فراہمی رک جاتی ہے۔ نکاسی کا نظام دباؤ میں ہے، وسائل لوٹ لیے جاتے ہیں۔۔۔
جیمز، امریکہ: معیشت کیسے چل رہی ہے؟
عیسیٰ تیسایو، بزنس مین: معیشت میں تیل نکالنے کا کام ٹھیک ٹھاک چل رہا ہے، جو جنگ سے قبل کی سطح تک آگیا ہے۔ حکومتی جانب سے معاوضہ کی وجہ سے تعمیراتی کام وغیرہ ہورہے ہیں۔
ایین، امریکہ: آپ کس پر یقین کرتے ہیں: روسی فوج، روس کی حامی چیچن سکیورٹی فورس یا باغی؟
علی ارتسویو، کیمسٹری کے طالب علم: میرا ذاتی خیال یہ ہے میں ان میں سے کسی پر بھی یقین نہیں کرتا ہوں۔۔۔۔
حسن، آسٹریلیا: ایک کمیونٹی کی وجہ سے آپ خود کو دنیا سے کتنا کٹا ہوا محسوس کرتے ہیں؟
اپتی تیپسایو، فلاسفر: بیرونی دنیا سے چیچنیا کٹا ہوا ہے۔ مثال کے طور پر چیچنوں کو پاسپورٹ نہیں مل سکتا تاکہ وہ بیرون ملک سفر کرسکیں۔ روس کے اندر بھی سفر کرنا ان کے لیے مشکل ہے۔ گروزنی سے ہوائی جہاز کے ذریعے آپ کہیں نہیں جاسکتے، اور ٹرینیں چار دن میں صرف ایک بار چلتی ہیں۔۔۔۔