Monday, 04 October, 2004, 14:23 GMT 19:23 PST
شاکراللہ میاں زادہ
تہکال پایان، پشاور
میں دو دن قبل افغانستان سے آیا ہوں۔ وہاں ایک جشن کی فضا ہے۔ انتخابات کی تیاریاں ہو رہی ہیں، امیدواروں کی جانب سے جلسے جلوس منعقد کیے جا رہے ہیں اور لوگ بڑے جوش وخروش سے ان تیاریوں میں مصروف ہیں۔
پاکستان میں رہتے ہوئے یہ اندازہ نہیں کیا جا سکتا کہ وہاں پر الیکشن کی کیا پوزیشن ہے۔ اس سے پہلے ووٹروں کے اندراج کے سلسلے میں بھی لوگوں نے دلچسپی ظاہر کی تھی اور پختونوں کے علاقوں میں بڑی تعداد میں خواتین ووٹروں کا اندراج ہوا تھا جو کہ غیر متوقع بات تھی۔
مرد تو مرد، عورتیں بھی |
اگرچہ میں تو حامد کرزئی صاحب کو ووٹ دوں گا لیکن ہو سکتا ہے میرے گھر کے دیگر افراد دوسرے صدارتی امیدوار انجینیئر احمد شاہ کو ووٹ دیں۔
پاکستان میں رہنے والے افغان مہاجرین بھی چاہتے ہیں کہ افغانستان میں کوئی نمائندہ حکومت بنے تاکہ یہاں کے رہنے والے افغان اپنے گھروں کو چلے جائیں۔
ہم پاکستان میں خوش ہیں لیکن اپنا ملک اپنا ہوتا ہے۔ ہم ساری زندگی تو پاکستان میں نہیں رہ سکتے، آخر ایک نہ ایک دن تو ہمیں جانا ہوگا اور ویسے بھی پاکستان کی حکومت اور عوام نے ہمارے ساتھ جو نیکی کی ہے ہم اسے ساری زندگی نہیں بھلا سکتے۔
بعض عناصر یہ پروپیگنڈہ مہم چلا رہے ہیں کہ کسی طریقے سے صدارتی انتخابات ملتوی ہو جائیں۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اب یہ ناممکن ہے کیونکہ یہ انتخابات پہلے ہی دو دفعہ ملتوی ہو چکے ہیں۔ امریکہ میں بھی اس سال کے آخر میں صدارتی انتخابات ہو رہے ہیں اور اس میں صدر بش کی کامیابی کےلیے بھی افغان انتخابات کا ہونا لازمی ہے۔
ان انتخابات کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ افغانستان میں یہ پہلا براہ راست چناؤ ہے جس میں افغان عوام بھی حق رائے دہی کا استعمال کریں گے۔اس سے پہلے صرف نامزدگیاں ہوتی رہی ہیں۔ اس کے بعد امید ہے کہ افغانستان کا عالمی برادری میں ایک امیج بن جائے گا۔
شاکراللہ میاں زادہ نے یہ گفتگو پشاور میں ہمارے نمائندہ رفعت اللہ اورکزئی سے کی۔ اگر آپ بھی افغان ہیں اور چاہیں تو ان انتخابات کے حوالے سے اپنی رائے ہمیں لکھ بھیجیں۔