آصف ملک
کویت
یہ روداد کویت میں کام کرنے والے ایک پاکستانی کی ہے جو عراق میں قتل ہوجانے والے ساجد نعیم سے ملے تھے۔
جس کمپنی میں میں کام کرتا تھا وہ عراق میں متعین امریکی فوجیوں کے لئے پراجیکٹ کرتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ عراق بھی جانا پڑے گا۔ پیسے اچھے تھے، میں نے سوچا کہ رسک تو لینا ہی پڑے گا، باقی جو قسمت میں ہے وہ تو ہونا ہی ہے۔
پتھر |
اس کے بعد میں تقریباً چار دفعہ عراق گیا جس میں بغداد، بصریہ اور عمریہ شامل ہیں۔ پہلی دفعہ ناصریہ میں جس کیمپ میں میں کام کرتا تھا اس کے بارے میں سنا تھا کہ وہ صدام کے کسی بیٹے یا بیٹی کا محل ہوا کرتا تھا۔ یہاں کئی عراقی بھی کام کرتے تھے اور یہ سب امریکیوں کو اچھا سمجھتے تھے۔ وہ ہمیں بتایا کرتے تھے کہ صدام بہت ظالم آدمی تھے۔
امریکی فوجی ہمارے ساتھ برابری سے پیش آتے تھے۔ دسسمبر میں میں جب بغداد گیا تو وہیں ہم نے ان کے ساتھ کرسمس اور نیو ائیر منائی۔ ہمیں کیمپ سے باہر جانے کی اجازت نہیں ہوتی تھی اور تمام سامان وہیں مہیا کیا جاتا تھا۔ یہیں پر میری پہلی دفعہ ساجد نعیم سے ملاقات ہوئی۔ بغداد ائیر پورٹ سے ہمیں لینے وہی آئے تھے۔ وہ خوش مزاج اور معصوم سے آدمی تھے۔ ان کے پاس گاڑی تھی اور وہ ایک کیمپ سے دوسرے کیمپ تک سامان لاتے اور لے جاتے تھے۔
خوش مزاج اور معصوم آدمی |
انہیں بتایا گیا تھا کہ ان کا کام کویت میں ہوگا لیکن کچھ دن کویت میں رکھنے کے بعد انہیں عراق بھیج دیا گیا اور یہ نہیں بتایا کہ تم عراق جا رہے ہو۔ رقم لگا کر آنے کے بعد یہاں سے لوٹنا گھاٹے کا سودا ہوتا ہے۔ وہاں عراق میں میری راولا کوٹ سے آئے ہوئے کئی دوسرے لوگوں سے بھی ملاقات ہوئی۔ سب کا یہی کہنا تھا کہ ’ہمیں کویت کا کہہ کر بلایا گیا تھا‘۔
چونکہ وہاں ساری سیکیورٹی امریکیوں کی ہے اس لیے یہ لوگ کوئی خاص ڈرے ہوئے نہ تھے۔ وہاں کئی اور پاکستانی، انڈین اور بنگلہ دیشی بھی نظر آئے۔ میں سترہ دن اس کیمپ میں رہا جہاں ساجد نعیم سے میری تقریباً روزانہ ملاقات ہوتی تھی۔ ہم جن حالات میں تھے گھر کی بات کرنے سے کتراتے تھے۔ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ ساجد جیسے آدمی پر جاسوسی کا الزام کیسے لگایا جا سکلتا ہے۔ وہ معصوم سے آدمی تھے۔ باقی ہاں امریکیوں کے لیے ضرور وہ کام کررہے تھے۔
بغداد ائیرپورٹ پر ہمیں واپس چھوڑنے بھی ساجد نعیم ہی آئے تھے۔ ہمارے پاس پیٹرول ختم ہوگیا تھا تو پیٹرول بھی انہوں نے ہی لاکر دیا تھا۔ یہاں پر امریکی ٹروپس ہوتے ہیں جن کے ساتھ ہم نکلتے ہیں اور وہ ہمیں ہماری منزل پر چھوڑ دیتے ہیں یعنی کویت کے بارڈر پر۔
تنخواہ کا لالچ |
سننے میں آرہا کہ اگرچہ پاکستانی حکومت نے لوگوں کو خراب حالات کی وجہ سے عراق بھیجنا بند کردیا ہے اور سختی کر دی ہے لیکن لوگ پھر بھی اندر اندر ہی اندر جا رہے ہیں، غیر قانونی طریقوں سے پہنچ رہے ہیں کیونکہ تنخواہ بہت ہے۔ انہیں دن کے تقریباً تینتیس کویتی دینار (تقریباً ساڑھے چھ ہزار پاکستانی روپے) تک مل جاتے ہیں جو کہ بڑی رقم ہے۔
میں تو صرف اتنا ہی کہنا چاہتا ہوں کہ ساجد نعیم کی موت کی ذمہ داری عراق، امریکہ یا پاکستان پر عائد نہیں ہوتی، یہ ان ایجنٹوں پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے انہیں نہیں بتایا کہ وہ عراق جا رہے ہیں۔