Wednesday, 26 May, 2004, 16:20 GMT 21:20 PST
ارجمند بانو
بی بی سی اردو ڈاٹ کام
خطہ قفقار کے ملک آذر بائیجان کے دارالحکومت باکو میں رات گئے جب ہمارا طیارہ اتر رہا تھا تو میں سوچ رہی تھی کہ بچپن میں کوہ قاف کی پریوں کی کہانیاں پڑھا کرتے تھے جن پر شہزادے عاشق ہو کر اپنی جان جوکھوں میں ڈال دیا کرتے تھے ۔ میں دیکھنا چاہتی تھی کہ آیا یہاں کی عورتیں پریوں جیسی حسین ہیں کہ نہیں۔ رات کے اندھیرے میں جب چھوٹے پتھروں کی تنگ سڑکوں سے ہوتے ہوئے ایک چھوٹی سی گلی کی نکڑ پر اتر کر پتہ چلا کہ ہوٹل اس کے اندر ہے تو اس علاقے کی پراسراریت کا اور بھی احساس ہوا۔
چند گھنٹے کی نیند کے بعد آنکھ کھلی تو میں نے اشتیاق میں ہوٹل کی تیسری منزل پر اپنے کمرے کی بالکنی پہ نکل کر شہر پر نظر ڈالی تو پتہ چلا کہ ہم واقعی کسی قدیم قلعے کے اندر ہیں۔ چھوٹے چھوٹے خستہ حال گھروں کے گرد ایک بہت بڑی فصیل جیسی اونچی اور صدیوں پرانی دیوار کا گھیرا ہے۔
اب تو مجھے اور بھی یقین ہوگیا کہ میں واقعی پریوں کے طلسماتی ملک میں پہنچ گئی ہوں۔ ہوٹل سے نکل کر پرانے باکو کی اونچی نیچی گلیوں اور اس کی بالکنیوں والی عمارتیں وہاں کی قدیم تہذیب و تمدن کی نشان دہی کرتی ہیں۔ لیکن ساتھ ہی دیواروں کے گرتے ہوئے سیمنٹ اور کہیں کہیں انتہائی خستہ چوبی دروازے کو دیکھ کر یوں لگا کہ بہت عرصے سے شہزادوں کا یہاں سے گزر نہیں ہوا۔ پھر ایک دم کسی موڑ پر ایک آدھ نئی نویلی اور شاندار بڑی بڑی کمپنیوں کے دفتر تھے۔ دل کو افسوس سا ہوا کہ مقامی لوگوں کے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں کہ وہ اپنے تاریخی ورثے کی حفاظت کر سکیں۔ باہر کے لوگ اس کے حسن اور ماحول سے زیادہ لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ لًیکن یہ بات سمجھ میں نہیں آ رہی تھی کہ یہ شہر جو پچھلی ایک صدی سے اپنی تیل کی دولت کی وجہ سے مشہور ہے، اس کے شہری مالی طور اتنے کمزور کیوں ہیں۔
![]() ساحل پر جہاں تک نظر جاتی تھی، تیل کے کنویں، ریفائنری کی اونچی اونچی چمنیاں اور جہازی قسم کے پائپ نظر آئے۔ |
میں تقریباً منجمد سی کھڑی دیر تک اس منظر کو دیکھتی رہی۔ شہر پر کیپیٹلزم کے جن نے قبضہ کر لیا تھا۔ شہر کے دوسرے حصوں میں میں بھی ہر طرف بی پی، ایکسان اور سٹیٹ آئل جیسی تیل کی کمپنیوں کے بورڈز نظر آئے جو ملک کی معیشت پر حاوی ہیں۔ لیکن اس تیل سے آنے والا سرمایہ کہاں جا رہا ہے اور سعودی عرب اور دبئی کی طرح یہاں پیسے کی ریل پیل کیوں نہیں۔ یہ معمہ مجھے ابھی حل کرنا ہے۔