Thursday, 20 May, 2004, 17:16 GMT 22:16 PST
تامیر فیض
بیت الحنین، یروشلم
ایک عرب کے طور پر اس ملک میں مجھے ہر موقعے پر امتیاز اور گھٹیا سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو اب صرف یہودی لوگوں کے لئے مخصوص ہو کر رہ گیا ہے۔ ظاہر ہے ان کے لئے صورتِ حال بہت بہتر ہے۔ انہیں زیادہ سماجی اور معاشی سہولیات حاصل ہیں جبکہ ہم پر ہر لمحے سازشی ہونے کا شک کیا جاتا ہے اور دن میں کئی مرتبہ پوچھ گچھ اور چیکنگ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہاں کے سماجی اور معاشی ماحول میں یہ امتیاز آسانی سے دیکھا جا سکتا ہے اور اسے بتانے کے لئے مجھے کسی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں۔
آپ خود دیکھ سکتے ہیں۔ کسی یہودی آبادی میں اتنی گندگی اور کچرا نہیں دکھائی دیتا۔ اپنا گھر تعمیر کرنے کے لئے بھی ہمیں کئی طرح کی شرائط کو پورا کرنا پڑتا ہے۔ میونسپلٹی کے قواعد و ضوابط کے مطابق ایک طویل کاغذی کاروائی سے گزرنا ہوتا ہے جبکہ یہودی لوگوں کو، جو زیادہ تر مہاجر ہیں ایسا کوئی مسئلہ پیش نہیں آتا۔ وہ کبھی بھی یہاں آسکتے ہیں اور تمام تر سہولیات حاصل کر سکتے ہیں، صرف اس لئے کہ وہ یہودی ہیں۔
وہ ہم پر شک کرتے ہیں کہ ہم فلسطینیوں کے وفادار ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم ریاست سے ہر قسم کا فائدہ اٹھاتے ہیں اور اسے اپنا ملک تسلیم نہیں کرتے اور یہ کہ ہمیں فلسطینی علاقوں کی طرف کوچ کر جانا چاہیے۔ ہم کیوں جائیں؟ ہمارا اسی زمین اور ملک سے تعلق ہے۔ باہر سے تو ان کی اکثریت یہاں آئی ہے۔
میں اتنا ہی کہوں گا کہ یہ ہماری زمین ہے، ہم کہیں جانے والے نہیں اور آپ ہم پر کوئی احسان نہیں کررہے۔ یہودی علاقوں میں جسمانی مشقت کے سارے کام ہم ہی کرتے ہیں۔ ہم نے سخت محنت سے اس ملک کی تعمیر کی ہے، صرف پیسہ آپ نے لگایا ہے۔ کتنے یہودی ہیں جو آج مشقت کرنے کو تیار ہوں اور اس کی صلاحیت رکھتے ہوں؟ انہیں ہماری ضرورت ہے اور ہمارے پاس جو کچھ بھی ہے ہم نے محنت کے بل بوتے پر حاصل کیا ہے۔ وہ ہمیں جو سہولیات دے بھی رہے ہیں وہ اس لئے کہ اپنے وجود کو قانونی ثابت کرسکیں اور دنیا کو بےوقوف بنا سکیں جو اس ملک میں ایک عرب علاقے اور یہودی علاقے میں تمیز کرنے سے قاصر ہے۔ حالانکہ اس کے لیے کسی علم کی ضرورت نہیں، یہ فرق صرف ایک سرسری نگاہ ڈالنے سے دکھائی دے سکتا ہے۔
میں چند ہفتے پہلے ہی سولہ برس کا ہوا ہوں اور اس سے زندگی خاصی بہتر ہوگئی ہے۔ اسرائیل میں ہمیں صرف تب شناختی کارڈ جاری کیا جاتا ہے جب ہم سولہ برس کے ہو جائیں۔ اس سے پہلے بغیر شناختی کارڈ کے مجھے ہر روز الدیہیہ کی فصیل سے گزرنا ہوتا تھا۔ میں نے تقریباً سکول جانا ہی بند کر دیا تھا کیوں کہ کئی مرتبہ انہوں نے مجھے شناختی کارڈ نہ ہونے کی وجہ سے آگے جانے کی اجازت نہیں دی۔ میرا قد بہت تیزی سے بڑھا ہے لیکن اس میں میرا کیا قصور ہے؟
وہ کئی مرتبہ کہتے کہ تم کہتے ہو تم ابھی سولہ برس کے نہیں، تم جھوٹ بولتے ہو۔ کئی مرتبہ میں پہاڑیوں کے ٹیڑھے میڑھے راستوں سے گزر کر سکول گیا ہوں۔
بھیانک خواب |
وکیل بننے کا خواب اب مجھے حقیقت پسندانہ نہیں لگتا۔ اگر بن بھی جاؤں تو اس شعبے میں رہنا عملی طور پر کس قدر ممکن ہوگا؟ کیا میں ان کی اقدار اور ضوابط کے اندر رہ سکوں گا؟ مجھے یہاں رہنے اور زندہ رہنے کے لیے کئی سمجھوتے کرنے ہوں گے۔ مجھے ہر لمحے خود سے جھوٹ بولنا ہوگا اور جو میرے دل میں ہوگا، وہ میں نہیں کہہ سکوں گا۔
مجھے لگتا ہے کہ اس خطے میں حالات مزید خراب ہوں گے۔ وزیرِ اعظم شیرون امن کے منصوبے کو آگے بڑھانے کے لئے کچھ نہیں کرنے والے۔ وہ اپنے آپ کو بدعنوانی کے الزامات سے بچانے کے لئے ہر چال چلیں گے۔ وہ لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لئے فلسطینیوں پر طاقت کا کھلا استعمال کریں گے تاکہ وہ ثابت کرسکیں کہ وہ کمزور آدمی نہیں ہیں۔ جب فلسطینی جواب دیں گے تو وہ کہیں گے کہ یہ دہشت گرد ہیں اور یوں تشدد کا یہ بازار گرم رہے گا۔ وہ یہ سب کچھ لوگوں کے لہو کی قیمت پر کر رہے ہیں۔
ان حالات میں میں نے یہاں سے باہر کچھ ڈھونڈنے کا دروازہ ابھی کھلا چھوڑا ہوا ہے۔
نوٹ:
سولہ برس کی عمر کے تامیر فیض نے اپنی کہانی بی بی سی کے لیے ہریندر مشرا کو سنائی۔