Tuesday, 10 February, 2009, 02:02 GMT 07:02 PST
پاکستان کی جانب سے ممبئی حملے میں ملوث افراد کے بارے میں ناکافی شواہد فراہم کرنے پر بھارت نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان مسئلے کو الجھانے کی بجائے ان افراد کے خلاف کارروائی کرے جو ممبئی حملوں میں ملوث تھے۔
بھارت کے نائب وزیر خارجہ آنند شرما نے کہا ہے کہ ممبئی حملوں میں ملوث افراد کی شناخت ہو چکی ہے اور پاکستان معاملات کو الجھانے کی بجائے ذمہ دراوں کے خلاف کارروائی کرے۔
بھارتی نائب وزیر خارجہ نے عالمی دنیا سے کہا کہ وہ پتہ چلائے کہ پاکستان اپنی سر زمین سے دہشتگردی کےمراکز کو ختم کرنےاور ممبئی حملوں میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی میں سنجیدہ بھی ہے یا نہیں۔
بھارتی وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان معاملے کو تعطل میں ڈالنے یا الجھانے کی بجائے بھارت کی جانب سے مہیا کیے جانے والے مواد کی بنیاد پر ممبئی حملوں کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کرے۔
پاکستان نے بھارت کی جانب سے پانچ جنوری کو ملنے والے ڈوسیر کے معائنے کے بعد کہا ہے کہ ممبئی حملوں سے متعلق تاحال بھارت سے ملنے والے ثبوت تحقیقات کو آگے بڑھانے، مقدمہ چلانے اور ملزمان کو سزا دلوانے کے لیے کافی نہیں ہیں۔
بھارت کا موقف ہے کہ پاکستان کو مہیا کیے جانے والے ڈوسیر میں وہ تمام تفصیلات موجود ہیں جن کے ذریعے ممبئی حملوں کے ذمہ داروں تک پہنچا جا سکتا ہے۔ بھارت کا کہنا ہے کہ ممبئی پرحملہ کرنے والے دس افراد کراچی سے ممبئی آئے تھے اور وہ حملے کے دوران اپنے ہینڈلرز کےساتھ ٹیلیفون کے ذریعے رابطے میں تھے۔
بھارت نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ ممبئی حملوں کے منصوبہ کاروں کی شناخت پاکستان اور بھارت سمیت ساری دنیا کو معلوم ہے ۔انہوں نے
کہا کہ ممبئی حملوں کے پچھے تنظیم کے بارے میں اقوام متحدہ کو مکمل آگاہی حاصل ہے۔