Wednesday, 21 January, 2009, 12:41 GMT 17:41 PST
ہندوستان کے وزیر خارجہ پرنب مکھرجی نے کہا ہے کہ آج کے دور میں شدت پسندی صرف بعض افراد یا گروپوں کا کام نہیں بلکہ اسکو انجام دینے میں ریاست کا بھی تعاون ہوتا ہے۔
انکا مزید کہنا تھا کہ جب کوئی ریاست عالمی فرائض سر روگردانی کرتے ہوئے شدت پسندی کو ایک ریاستی پالیسی کے تحت اپنی سرزمین پر سرگرم ہونے دیتی ہے تو حالات مزید پیچیدہ اور سنجیدہ ہوجاتے ہیں۔
انکا کہنا تھا کہ 26 نومبر کو ممبئی میں ہوئے شدت پسند حملے امریکہ میں ہوئے 11/9 کے حملوں کی طرز پر ہی تھے۔
پرنب مکھرجی نے یہ بھی کہا کہ شدت پسندی سے نمٹنے کے لیے عالمی برادری کو ایک ہونا ہوگا اور شدت پسندی کو فروغ دینی والی ریاستوں کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کرنے کا وقت آگیا ہے۔
انکا مزید کہنا تھا ’ممبئی حملوں کے بعد نہ صرف بھارت بلکہ پورے ایشیا کو یہ سمجھنا چاہیے کہ ایسے حملے ہماری تہذیب پر ایک حملہ ہے ۔ہماری تیزی سے بڑھتی معیشت اور مضبوط سیاسی روابط کے ذریعے ہمیں یہ پیغام دینا ہوگا کہ شدت پسندوں کے منصوبوں کو نہ صرف انڈیا بلکہ پوری عالمی براداری کو ختم کرنا ہونگے‘۔
ممبئی حملوں کے بعد ہندوستان اور پاکستان کے درمیانی تلخ بیان بازی جاری ہیں اور ہندوستان بار بار یہ کہہ رہا ہے کہ ممبئی حملے صرف پاکستان کے بعض شدت پسند عناصر کا کام نہیں تھا بلکہ اس میں ریاست کی بعض ایجنسیوں کا بھی ہاتھ تھا۔