Friday, 16 January, 2009, 09:22 GMT 14:22 PST
ہندوستان کی مغربی ریاست گجرات کے ساحلی علاقے کیری کریک میں بھارت کے کوسٹ گارڈ نے پاکستان کے سترہ ماہی گیروں کو حراست میں لیا ہے۔ ان ماہی گیروں کی دو کشتیاں بھی ضبط کی گئی ہیں۔
حراست میں لیےگئے ماہی گیروں اور ضبطی کی گئی کشتیوں کو جکھوا کے ساحل پر لایا گیا ہے جہاں حکام ماہی گیروں سے پوچھ گچھ کر رہے ہیں۔
کوسٹ گارڈ کے ایک کمانڈو پی راج کمار نے ذرائع ابلاغ کو بتایا ہے کہ پکڑے گئے ماہی گیر بھارت کے پانی میں تھے۔’ضبط کی گئی کشتیاں پاکستانی ماہی گیروں کی ہیں جو تقریباً پندرہ میل تک بھارتی حدود میں تھیں۔ اعتماد سازی کے اقدامات کے تحت پہلے ہم انہیں ایسے ہی یوچھ گچھ کے بعد چھوڑ دیتے تھے تاہم ان کشتیوں کی تلاشی اور پوچھ گچھ کے بعد ہی پتہ چل سکےگا کہ ان کے مقاصد کیا تھے۔‘
بھارتی تفتیشی ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ ممبئی پر حملہ کرنے والے شدت پسند سمندری راستے سے آئے تھے اسی لیے حکومت نے اپنے تمام ساحلی علاقوں میں گشت بڑھا دیا ہے اور یہ گرفتاریاں اسی کا نتیجہ ہیں۔
ہندوستان اور پاکستان کے ماہی گیر کئی بار غیر ارادی طور پر انجانے میں دوسرے کے علاقے میں پہنچ جاتے ہیں۔ اس غلطی کی انہیں سزا یہ ملتی ہے کہ وہ سالوں جیل میں پڑے رہتے ہیں۔
دونوں ملکوں کے درمیان جب تعلقات بہتر تھے تو ایسے بہت سے مچھیروں کو خیر سگالی کے جذبات کے تحت جیل سے آزاد کیا گیا ہے۔