Thursday, 15 January, 2009, 15:05 GMT 20:05 PST
ہندوستان نے بھارت کے زیرانتظام کشمیر پر برطانوی وزیرخارجہ ملی بینڈ کے ایک بیان پر اپناشدید ترین ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر جیسے مسئلے پر اسے غیر ضروری مشورہ نہیں چاہیے۔
دلی میں وزرات خارجہ کے ترجمان وشنو پرکاش نے اس معاملے پر میڈیا کو باقاعدہ بریف کیا اور کہا کہ ملی بینڈ کو اپنے خیلات کے اظہار کا پورا حق ہے اور یہ خیلات پوری طرح ان کے اپنے ہیں۔
ان کا کہنا تھا ’ہندوستان ایک آزاد ملک ہے اور اگرچہ ہم ان کے بیان سے متفق نہیں پھر بھی وہ اپنے خیالات کے اظہار کے لیے آزاد ہیں تاہم ہمیں جموں کشمیر جیسے ہندوستان کے اندرونی معاملات پر کسی غیر ضروری مشورے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔‘
برطانوی وزیر خارجہ ملی بینڈ نے اخبار گارڈیئن میں اپنے ایک مضمون میں کشمیر پر بھی خیلات کا اظہار کیا تھا۔
انہوں نے اپنے مضمون میں ہندوستان اور پاکستان کو مشورہ دیتے ہوئے لکھا تھا کہ اگر دونوں ملک مل کر کام کریں اور کشمیر کے مسئلے کا حل تلاش کرلیں تو علاقے میں لوگوں کو ہتھیار اٹھانے کا کوئی موقع نہیں مل سکےگا اور پاکستان بھی اپنی مغربی سرحد کی حفاظت بہتر طور پر کر سکےگا۔
ہندوستان میں ایسا مانا جارہا ہے کہ ملی بینڈ کا یہ بیان کشمیر اور شدت پسندی کو ایک ساتھ جوڑ کر دیکھنے کی بات ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ بھارت نے اس پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔