Tuesday, 13 January, 2009, 10:14 GMT 15:14 PST
ممبئی حملوں کے معاملے کی سنوائی کے لیے ایم ایل تحلیانی کو خصوصی جج مقرر کیا گیا ہے۔
ممبئی پولیس کمشنر حسن غفور نے بتایا ہے کہ ممبئی پر شدت پسندوں کے حملوں کے دوران زندہ گرفتار کیے گئے واحد ملزم اجمل عامر قصاب کے خلاف جو معاملہ درج ہے اس کی سنوائی ایم ایل تحلیانی کی نگرانی میں ہوگی۔
اس سے پہلے اس معاملے میں اجول نکم کو سرکاری وکیل مقرر کیا جاچکا ہے۔
اجمل قصاب فی الحال پولیس کی حراست میں ہیں اور امید کی جا رہی ہے کہ پولیس 24 جنوری سے پہلے ان کے خلاف چارج شیٹ داخل کردے گی۔
اجمل قصاب کے پاس اپنا دفاع کرنے کے لیے کوئی وکیل نہیں۔ پاکستان حکومت کو لکھے ایک خط میں قصاب نے قانونی مدد کی اپیل کی تھی۔اجمل کے کیس کی پیروی کے لیے ابھی تک کوئی بھی وکیل نامزد نہیں ہوا ہے۔
حکومت نے لیگل ایڈ سیل کے جس وکیل دنیش موٹا کو نامزد کیا تھا انہوں نے اخلاقی بنیادوں پر کیس لینے سے انکار کر دیا تھا۔ دو وکلاء نے ایک سیاسی جماعت کے لوگوں کے مظاہروں اور مخالفت کے بعد اپنا نام واپس لے لیا۔
ہندوستان نے پاکستان کو ممبئی حملوں میں پاکستانی شدت پسندوں کے شامل ہونے کے شواہد سونپ دیے ہیں اور پاکستان نے قبول کرلیا ہے کہ اجمل قصاب پاکستانی شہری ہے۔
پولیس کیس کے مطابق اجمل اور ان کے ساتھی ابو اسماعیل اے ٹی ایس چیف ہیمنت کرکرے ، ایڈیشنل پولیس کمشنر اشوک کامٹے، پولیس مقابلوں کے ماہر پولیس انسپکٹر وجے سالسکر سمیت چھ پولیس اہلکاروں کو ہلاک کرنے کے بعد ان کی سکواڈ کار چھین کر فرار ہو گئے تھے جنہیں بعد میں ڈی بی مارگ گرگام چوپاٹی کے پاس سے پکڑا گیا تھا۔پولیس کارروائی میں اسماعیل خان کی موت واقع ہو گئی تھی اور پولیس نے اجمل کو زندہ گرفتار کر لیا تھا۔