Tuesday, 06 January, 2009, 07:53 GMT 12:53 PST
ہندوستان کے وزیر اعظم منموہن سنگھ نے کہا ہے کہ ممبئی حملوں کو جس طرح سے انجام دیاگیا ہے اس میں پاکستان کی بعض سرکاری ایجنسیوں کی مدد کے اشارے ملتے ہیں۔
منموہن سنگھ نے یہ بات شدت پسندی، اندورنی سیکورٹی، اور سیکورٹی سے جڑے کئی اہم معاملات پر دلی میں ہورہی وزراء اعلی کی ایک میٹنگ میں کہی ہے۔
میٹنگ کی قیادت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اب یہ صاف ہوچکا ہے کہ حملوں کے پیچھے پاکستانی شدت پسند تنظیم لشکرِ طیبہ کا ہاتھ ہے۔
منموہن سنگھ کا کہنا تھا ’ہمارا ملک شدت پسندی سے لڑنے میں ایک ساتھ ہے اور ممبئی حملوں میں ایسے ثبوت حاصل ہوچکے ہیں کہ حملے جس طرح سے انجام دیئے گئے ان کو پاکستان کی بعض سرکاری ایجنسیوں کی مدد حاصل تھی۔‘
انکا مزید کہنا تھا ’ نکسلی شدت پسندی ہندوستان کی سرزمین پر پیدا ہوئی ہے لیکن بھارت میں جو شدت پسندی کے واقعات ہوئے ہیں انکو باہری ممالک خاص طور سے پاکستان کی مدد مل رہی ہے۔ پاکستان نے شدت پسندی کو سرکاری پالیسی کے طور پر استمعال کیا ہے۔‘
واضح رہے کہ گزشتہ روز ہندوستانی حکومت نے پاکستانی حکومت کو ممبئی حملوں سے متعلق ثبوت فراہم کیے تھے۔
ان ثبوتوں میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح سے ممبئی پر ہونے والے حملوں کا تعلق پاکستان کے بعض شدت پسند عناصر سے ہے۔
بھارت نے جو ثبوت سونپے ہیں اس میں فی الحال بھارتیہ پولیس کی حراست میں ممبئی حملوں میں ملوث شدت پسند اجمل احمد قصاب سے تفتیش سے ملنے والی اطلاعات، حملوں کے دوران شدت پسندوں اور پاکستان میں بیٹھے بعض عناصر کے درمیان کمیونیکشن لنکس، حملوں کے بعد شدت پسندوں کے پاس سے حاصل ہونے والا اسلحہ، اور جی پی ایس اور سیٹلائٹ فون کے ذریعے حاصل کی گئی معلومات شامل ہیں۔
ہندوستان کا کہنا ہے کہ وہ امید کرتا ہے کہ پاکستان ان ثبوتوں کو دھیان میں رکھ کر آگے کی کارروائی کرے گا اور پاکستان عالمی براداری اور فریقین کے درمیان شدت پسندی کے خاتمے سے متعلق اپنے وعدے پر کھرا اترے گا۔
پاکستان کی حکومت کا کہنا ہے کہ اسے بھارت کی جانب سے دیئے گئے شواہد حاصل ہوگئے ہیں اور وہ ان شواہد کے مواد کا مطالعہ کررہا ہے۔
ادھر پاکستان کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ٹھوس شواہد ملنے پر ممبئی حملوں میں ملوث ’پاکستانیوں‘ کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
ممبئی پر شدت پسند حملے میں کم از کم 170 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ہندوستان نے کہا ہے کہ ممبئی حملوں کے پیچھے پیچھے پاکستان کی شدت پسند تنظيم لشکرِ طیبہ کا ہاتھ ہے۔ حالانکہ پاکستانی حکومت اور لشکرِ طیبہ نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
حملوں کے بعد ہندوستان اور پاکستان کے رشتے کشیدہ ہوئے ہیں اور حملوں کے بعد سے لیکر اب تک دونوں ممالک کی جانب سے تلخ بیان بازیاں جاری ہیں لیکن ہندوستان نے عالمی برادری کی جانب سے پاکستان پر دباؤ بنانا شروع کردیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر سرگرم شدت پسندوں کے خلاف سخت سے سخت کاروائی کرے۔