Monday, 05 January, 2009, 14:37 GMT 19:37 PST
ریاض مسرور
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سرینگر
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں یہ سوال ہرطبقہ میں بحث کا موضوع بنا ہوا ہے کہ آیا صوبے میں اب تک کے سب سے کم عمر وزیراعلٰی عمرعبداللہ جموں کشمیر کی صورتحال پر کوئی مثبت اثر مرتب کرپائیں گے یا نہیں؟
گو کہ اکثر سیاسی حلقے، جن میں ان کے حریف مفتی محمد سعید بھی شامل ہیں، عمرعبداللہ کی قابلیت کا اعتراف کرتے ہیں، لیکن کشمیر کے پیچیدہ حالات کو دیکھتے ہوئے مبصرین کا بڑا حلقہ سمجھتا ہے کہ عمرعبداللہ کے لیے اقتدار بہت بڑے چیلنج لے کر آیا ہے۔
ان کا پہلا چیلنج ان سے وابستہ توقعات ہیں ۔ خود عمرعبداللہ بھی ان کے بارے میں پیدا شدہ توقعات سے قدرے مخدوش ہیں۔
جموں روانگی سے قبل بی بی سی کے ساتھ ایک گفتگو کے دوران انہوں نے کہا
’ توقعات بہت زیادہ ہیں، شاید اس لیے کہ میں پہلی بار وزیراعلٰی بن رہا ہوں۔ اور ہوسکتا ہے میری عمر کی وجہ سے بھی توقعات زیادہ
ہوں لیکن مجھے یقین ہے کہ میں تبدیلی لانے میں کامیاب ہوجاؤں گا‘
واضح رہے عمرعبداللہ اچھی انگریزی بولتے ہیں، نئی دلّی میں نائب وزیرخارجہ کے عہدے پر فائز رہ کر انہوں نے دُنیا بھر کی سیر کی
ہے، وہ پہلے وزیراعلٰی ہیں جو پاکستان میں سیاسی اور فوجی قیادت کے ساتھ ملاقاتیں کرچکے ہیں اور اپنے والد فاروق عبداللہ کے مقابلہ
میں سنجیدہ مزاج کے مالک ہیں۔
|
امید
|
عمرعبداللہ کے بیانات کی روشنی میں حساس حلقوں کا ماننا ہے کہ وہ اپنے ایجنڈے کو محض تعمیروترقی تک محدود نہیں رکھنا چاہتے ہیں، بلکہ اس میں مسئلہ کشمیر، عوامی انصاف اور دیگر پہلوؤں کو بھی ملانا چاہتے ہیں۔
پیر کے روز حلف برداری سے ذرا قبل انہوں نے جموں میں ایک ٹیلی ویژن چینل سے کہا کہ’امرناتھ بورڑ کو زمین کی منتقلی کے معالے پر حال ہی میں علاقائی اور فرقہ وارانہ خطوط پر ہوئے تشدد سے جو زخم لگے ہیں ان پر مرہم لگانا ضروری ہے۔‘
اس سے قبل وہ ناانصافیوں کی فہرست مرتب کرنے کے لیے جنوبی افریقہ میں قائم ٹرُوتھ اینڈ ری کَنسی لِیشن کمیشن کی طرز پر جموں کشمیر
میں ایک کمیشن کا قیام چاہتے ہیں۔
|
نظریہ
|
واضح رہے جنوبی افریقہ میں نسلی امتیاز کے خلاف تحریک کی کامیابی کے بعد یہ کمیشن نوے کی دہائی کے دوران وہاں کے مقبول رہنما نیلسن منڈیلا نے عالمی اداروں کی معاونت سے قائم کیا تھا۔ اس کا مقصد اکثریتی سیاہ فام آبادی کے خلاف سفید فام اقلّیت کے مظالم کی تفتیش کرنا تھا۔
قابل ذکر ہے کہ الیکشن سے قبل بائیس جولائی دو ہزار سات کو پارلیمنٹ میں عمر عبداللہ نے ہندوانتہاپسندوں کے خلاف جو تقریر کی اسے بھی بیشتر کشمیری حلقوں نے سراہا۔ امرناتھ زمین تنازعہ کے پس منظر میں کی گئی اس تقریر میں انہوں نے کہا تھا: ’ہم جان دینگے ، لیکن زمین کی ایک انچ بھی نہیں دینگے۔‘
سماجی کارکن ایک سِکھ رہنما جگدیش سنگھ آزاد کہتے ہیں ’عالمی کمیشن کی بات کہہ کر عمر عبداللہ نے علیحدگی پسندوں کے ایجنڈے کی طرف اشارہ کیا ہے اور مرہم لگانے کی بات کر کے انہوں نے موجود سیاسی مزاج کی بات کی ہے۔
دونوں باتیں اچھی ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ عمرعبداللہ کی حکومت میں کانگریس برابر کی شریک ہے۔ کیا وہ دلّی والوں کو مسئلہ کشمیر سے متعلق کسی تاریخی اقدام کے لیے آمادہ کرپائیں گے؟‘
کشمیریونیورسٹی میں شعبہ سیاستات پروفیسر گُل محمد وانی کہتے ہیں،
’انتخابی مہم میں بھلے ہی بجلی پانی سڑک کو اُچھالا جائے، یہاں کی اقتدار نواز سیاست ہمیشہ ہندوپاک تعلقات کے گرد گھومتی ہے۔ عمرعبداللہ
امن کے عمل کو ایجنڈا بنانے پر آمادہ تو تھے، لیکن ممبئی حملوں کے بعد ہندپاک کشیدگی اس میں روکاٹ ڈال سکتی ہے۔ خاص بات یہ ہے
کہ پاکستان اور ہندوستان فی الوقت افغانستان میں اُلجھے ہوئے ہیں، ایسے میں عمر ضرور چاہیں گے کہ وہ پاکستان کی رعایتی کشمیر پالیسی
کا فائدہ اُٹھائیں۔ لیکن حالات اس کے لیے ایسے نہیں جیسے چند سال قبل تھے۔‘