Thursday, 25 December, 2008, 19:13 GMT 00:13 PST
خدیجہ عارف
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ممبئی
ممبئی حملوں کے فوراً بعد بعض غیر ملکی سیاحوں نے کہا تھا کہ اب شاید ممبئی کا رخ کرنے سے پہلے وہ ایک بار ضرور سوچیں گے۔ لیکن حملوں کے ایک مہینے بعد متاثرہ تاج ہوٹل، ٹرائیڈینٹ اور لیوپولڈ کیفے کے پاس ٹہلتے ہوئے غیر ملکی سیاح کہتے ہیں کہ ’ہندوستان ایک مہمان نواز ملک ہے اور وہ یہاں محفوظ محسوس کرتے ہیں۔‘
آسٹریلیا کے ڈریئن کا کہنا تھا وہ ممبئی حملوں کے بعد ممبئی آئے ہیں لیکن انہیں آنے سے پہلے ذرا ڈر نہیں لگا۔ ’مجھے کوئی ڈر نہیں ہے۔ حملہ مجھ پر بھی ہوسکتا ہے لیکن مجھے کوئی ڈر نہیں ہے۔ حملے کہیں بھی ہو سکتے ہیں۔‘
فرانس کی کیمی کا کہنا تھا کہ ’مجھے ڈر تو نہیں لگا کیونکہ میں ہندوستان میں اپنے آپ کو محفوظ سمجھتی ہوں۔‘
جب ان سے پوچھا گیا کہ ہندوستان انہیں کیوں محفوظ لگتا ہے تو انکا کہنا تھا کہ ’جب ممبئی حملے ہوئے تو ہندوستانیوں نے بہت سخت ردِ عمل ظاہر کیا اور یہاں سکیورٹی بھی کافی اچھی ہے جس سے ہم لوگ غیر محفوظ محسوس نہیں کرتے ہیں۔‘
جرمنی کے پیٹر کا کہنا تھا کہ وہ ایک بڑے گروپ کے ساتھ ممبئی آئے ہیں اس لیے وہ غیر محفوظ محسوس نہیں کرتے۔ حالانکہ ان کا کہنا تھا ’ہم نے ممبئی کے بعد یہاں آنے کے بارے میں جب سوچا تو ہم اپنی حفاظت کے حوالے سے فکر مند ضرور تھے اس لیے ہم نے سیکورٹی سے متعلق ساری معلومات حاصل کر لی تھیں۔‘
پیٹر کا مزید کہنا تھا کہ وہ اپنے خدا پر پورا یقین رکھتے ہیں اور ’خدا کو جس کو بچانا ہوتا وہ کہیں بھی بچ جاتا ہے۔ ممبئی حملوں میں بھی کتنے سیاح بچ گئے تھے۔‘
19 سالہ ٹریزا کا کہنا تھا کہ ’میں ممبئی آنے سے پہلے ڈری ہوئی ضرور تھی اور ابھی بھی تھوڑا ڈر ہے لیکن جس طرح سے ممبئی میں زندگی معمول پر لوٹ آئی ہے میرا بھی ڈر اتر گیا ہے۔‘
وہیں کرسٹینا کا کہنا تھا کہ انہيں ممبئی آنے سے پہلے ڈر لگا تھا۔ لیکن دہشت گردی ایک عالمی مسئلہ ہے اور کوئی بھی، کہیں بھی محفوظ نہیں ہے لیکن زندگی رکتی تو نہیں ہے۔
کرسٹینا کی طرح ہی بیشتر ممبئی والے اور ممبئی میں کام کرنے والے لاکھوں افراد شاید یہی سوچتے ہیں کہ زندگی تو رکتی نہیں اور شاید یہی وجہ ہے کہ تاج محل ہوٹل، سی ایس ٹی سٹیشن اور کیفے لیوپولڈ میں لوگوں کی اتنی ہی بھیڑ دیکھائی دے رہی تھی جتنی شاید پہلے کبھی۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ان جگہوں پر سیکورٹی والوں کی تعداد زیادہ ہوگئی ہے۔