http://bbc.com.im/urdu/

Tuesday, 23 December, 2008, 11:24 GMT 16:24 PST

ریاض مسرور
بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، سرینگر

الیکشن کی کامیابی کا راز

ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں جون سے اگست تک ہند مخالف تحریک کے باوجود حکومت ہند پولنگ یا ووٹنگ کی ایک اچھی شرح حاصل کرنے میں کیسے کامیاب ہوئی؟ وادی میں انتخابی عمل اختتام کو پہنچ رہا ہے، لیکن یہ سوال عوامی اور سیاسی حلقوں میں ایک بحث کا موضوع بن چکا ہے۔

بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ الیکشن کی’کامیابی‘ کو سمجھنے کے لیے پاکستان اور پاکستان کے حامی شدت پسندوں کے کردار کو سمجھنا ضروری ہے۔ ان کا خیال ہے کہ حالیہ الیکشن دراصل ہندوستان اور پاکستان کے درمیان پچھلے پانچ سال سے جاری امن عمل کا ایک نتیجہ ہے، اس کے درمیان میں جو تحریک یہاں چلی اسے ایک غیر متوقع ہلچل کہا جاسکتا ہے جس نے پہلے سے موجود جذبات کو ایک سمت دی۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ دو ہزار دو میں کشمیر میں نئی مخلوط سرکار کے اقتدار میں آتے ہی یہاں کے ہندنواز لیڈروں کا رابطہ اچانک پاکستان کے ساتھ اُستوار ہوگیا۔

ان دوروں کے بعد پاکستان اور کشمیر میں انتخابات اور اسمبلی کی نمائندہ حیثیت کےحوالے سے ایک بحث چِھڑ گئی اور بتدریج ایک مائنڈ سیٹ ترتیب پایا۔ یہاں تک کہ پاکستان میں مقیم ممنوعہ عسکری گروپوں کی مخلوط انجمن متحدہ جہاد کونسل کے سربراہ سید صلاح الدین نے گرما میں ہی اعلان کیا کہ اگر لوگ اپنی مرضی سے ووٹ ڈالینگے تو بندوق کی نوک پر بائیکاٹ کروانے کا کوئی جواز نہیں ہوگا۔

اس کے بعد مقامی جماعت اسلامی نے سید علی گیلانی کی بائیکاٹ پالیسی کی مخالفت کیے بغیر یہ واضح کیا کہ وہ گھر گھر بائیکاٹ مہم کے حق میں نہیں ہیں۔ اس طرح قریب پندرہ سال بعد عوامی حلقوں میں ووٹنگ کی طرف دوبارہ میلان پیدا ہوگیا۔

باخبر مبصرین کا کہنا ہے کہ ایک طویل اور ٹھوس تناظر کو سمجھے بغیر میر واعظ عمر اور اس کے ہم خیال لیڈروں نے یہ قیاس کرلیا کہ لوگ بائیکاٹ کرینگے۔

کشمیر میں انسانی حقوق اور اظہار رائے کی آزادی کے لیے کام کرنے والے نوجوان رضاکار خُرم پرویز کہتے ہیں: ’ زمین تنازعہ پر جو تحریک اُٹھی اس کی وجہ سے لیڈر حالات کو بھانپنے میں غلطی کربیٹھے۔ پچھلے پانچ سال سے جو کچھ کمٹمنٹ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تھی وہ تین ماہ کی احتجاجی مہم سے بدل نہیں سکتی تھی۔‘

قابل ذکر ہے کہ دو ہزار دو کے انتخابات میں پولیس ریکارڑ کے مطابق آٹھ سو سے زائد افراد ہلاک ہوگئے جن میں نیشنل کانفرنس، پی ڈی پی اور دیگر سیاسی گروپوں کے پچہتر رہنما اور کارکن شامل ہیں۔ معنی خیز ہے کہ اس سال کے الیکشن میں اب تک ہوئے انتخابات کے مقابلے سب سے زیادہ اُمیدوار میدان میں تھے، لیکن کوئی سیاسی قتل نہیں ہوا۔

اُنیس سو نوے سے ہی الیکشن کے دوران مسلح شدت پسندوں کا معمول رہتا تھا کہ وہ پولنگ بوتھوں پر گرینیڈ پھینکتے تھے۔ لیکن نہ صرف اس بار مسلح گروپ الیکشن عمل سے کنارہ کش رہے بلکہ بیان بازی سے بھی احتراز کیا۔ شائد یہی وجہ ہے کہ ملی ٹینسی سے بُری طرح متاثرہ دیہات جیسے کپوارہ، ترال اور لولاب میں بھی اچھی شرح میں ووٹ پڑے۔

بعض حلقوں کا خیال ہے کہ پاکستان کے ساتھ جو امن عمل دو ہزار چار سے شروع کیا گیا، اس کا اہم نتیجہ یہ نکلا کہ کشمیر میں ہند نواز سیاست کا لب و لہجہ بدل گیا۔

کشمیر یونیورسٹی میں قانون اور انسانی حقوق کے استاد ڈاکٹر شیخ شوکت حُسین کا کہنا ہے کہ ’لوگوں کو لگنے لگا کہ جو لوگ ووٹ مانگ رہے ہیں وہ بھی تو مسئلہ کشمیر کی بات کرتے ہیں۔ بات چیت کی دہائی دیتے ہیں۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر بات کرتے ہیں۔ لہٰذا لوگوں کو سمجھ آیا کہ ووٹ مانگنے والے آزادی کی کاز کے اس قدر دُشمن نہیں ہیں، جیسا کہ عمومی خیال ہے۔ اس سے ایک نظریہ بنا کہ ووٹ سے مسئلہ کشمیر کی حقانیت یا آزادی کی تحریک پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ یہ بھی ایک فیکڑ ہے۔‘

سات مرحلوں میں ہونے والے ان انتخابات میں عوام کی شمولیت شائد ِاس وجہ سے بھی حیرانی کا سبب بنی کہ ووٹنگ کا عمل شدید اور بھاری عوامی تحریک کے ساتھ ساتھ شروع ہوا۔ یہ خیال اپنی جگہ درست ہے ، کہ کشمیری ووٹر نے مقامی مسائل کے لیے ووٹ ڈالا اور آزادی کے مطالبہ سے دستبردار نہیں ہوا۔ لیکن اکثر مبصرین کشمیر میں انتخابات کی کامیابی کو پاکستان کی طرف سے ہندوستان کے لیے ’اعتماد سازی کا بہت بڑا قدم سمجھتے ہیں۔‘

کالم نگار ایم اے جاوید کہتے ہیں کہ ’یہ تو پاکستان کا سب سے بڑا سی بی ایم ہے۔ لیکن بد قسمتی کی بات ہے کہ اسی اثنا میں ممبئی پر دہشت پسندوں نے حملہ کیا اور اب اس تاریخی سی بی ایم کا جواب جنگی دھمکیوں سے دیا جا رہا ہے۔ شائد ممبئی کی آڑ میں ہندوستان اس تاریخی سی بی ایم کا جواب دینے سے بچ جائے۔ الیکشن تو ہوگئے۔ تصور کیجیے اگر ممبئی حملے نہ ہوئے ہوتے تو اس وقت ہم یہ سوچ رہے ہوتے کہ کامیاب الیکشن کے لیے پاکستان کے تعاون کا ہندوستان کیا جواب دے گا۔ لیکن اب ان انتخابات کا یہ پہلو لاتعلق سا لگتا ہے۔‘