Saturday, 20 December, 2008, 08:58 GMT 13:58 PST
ہندوستان کی حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے کہا ہے کہ حکومت کو پاکستان کے ساتھ جامع مذاکرات ختم کر دینے چاہیں کیونکہ پاکستان نے ہندوستان کے مطالبات پر توقعات کے مطابق ردعمل ظاہر نہيں کیا ہے۔
ایک ٹی وی چینل کو دیئے گئے انٹرویو میں بی جے پی کے رہنما اور سابق وزیر خارجہ یشونت سنہا نے کہا ہے کہ حکومت اپنی سوچ میں متحد نظر نہيں آ رہی ہے۔
یشونت سنہا نے کہا ’ہم نے سنا ہے کہ ایک ہی دن میں پاکستان کے سلسلے میں وزیر خارجہ ایک بات کہہ رہے تھے اور وزیر دفاع دوسری بات ۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ اگر حکومت کے ترجمان متحد ہوں اور ایک ہی زبان بوليں تو زیادہ بہتر ہوگا۔‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر ان کی پارٹی اقتدار میں ہوتی تو ’ کمپوزٹ ڈائیلاگ‘ میں وقفہ دینے کے بجائے مذاکرات ختم ہی کر دیتی ۔
ادھر ہندوستان کے وزیر خارجہ پرنب مکھرجی نے پاکستان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا’ اگر کو ئی ملک دہشتگردی کے بارے میں دی گئی یقین دہانی پر قائم نہيں رہ سکتا تو ہندوستان کو پورا حق ہے کہ وہ اپنے مفاد اور عوام کی حفاظت کے لیے سبھی راستے کھلے رکھے۔‘
ممبئی پر ہوئے دہشتگرد حملے کے بعد یہ دوسرا موقع ہے جب ہندوستان نے پاکستان کے سلسلے میں سبھی راستے کھلے رکھنے کی بات کہی ہے۔
ریاست سکم کی یونیورسٹی میں منعقد ایک بین الاقوامی اجلاس میں شرکت کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا’ ہم نے ان برسوں میں اپنے پڑوسیوں
سے بار بار درخواست کی کہ وہ دہشتگرد سرگرمیوں کی امداد نہ کریں اور دہشتگردی کے ڈھانچے کو ختم کریں ۔ لیکن یقین دہانی کے باوجود
ہماری درخواست کو نظر انداز کیا گیا ہے۔‘
![]() |
|
| پرنب مکھری کا کہنا تھاکہ پاکستان میں دہشتگردی کا ڈھانچہ قائم ہے |
پاکستان کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا’ اس ملک میں اندرونی سلامتی کا نظام خراب ہوتا جا رہا ہے اور اقتدار کے کئی مرکز پیدا ہو گئے ہیں۔‘
پرنب مکھری کا کہنا تھا ’ پاکستان میں دہشتگردی کا ڈھانچہ قائم ہے اور اقتدار کے کئی مرکز پیدا ہو جانے کے سبب ہندوستان مخالف شدت پسندوں کو کئی حلقوں سے حمایت بھی حاصل ہو رہی ہے۔‘