Friday, 19 December, 2008, 11:34 GMT 16:34 PST
انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھارت میں انسداد دہشت گردی کے نئے مجوزہ قوانین پر تنقید کرتے ہوئے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ ان کا غلط استعمال ہوسکتا ہے۔
بھارت کی حکومت کی طرف سے تجویز کردہ نئے قوانین کے تحت دہشت گردی کے شبہ میں کسی شخص کو جج کے احکامات پر چھ مہینے تک حراست میں رکھا جا سکتا ہے۔
ان قوانین کو بھارتی پارلیمان نے پہلے ہی منظور کر دیا ہے اور اب ان کو لاگو کرنے کے لیے صرف صدر کے دستخط ہونا باقی ہیں۔
یہ قوانین ممبئی میں گزشتہ ماہ ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کے بعد بنائے گئے ہیں۔ بھارت کی حکومت پر ان حملوں کے بعد دہشت گردی کے خلاف سخت اقدامات اٹھانے کے لیے شدید دباؤ تھا۔
دہشت گردی کے خلاف اپنے رد عمل کے طور پر بھارت کی حکومت نے سخت قوانین کے علاوہ ملک کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے ایک نئی ایجنسی بنانے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھارت کی صدر پرتیبھا پٹیل سے اپیل کی ہے کہ وہ ان قوانین پر دستخط کرنے سے انکار کر دے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ترجمان مدھو ملہوترا نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف بھارت کی حکومت کی تشویش کو پوری طرح سمجھ سکتی ہے اور بھارت کی حکومت کو پوار حق حاصل ہے کہ وہ اپنے عوام کی جان و مال کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کرئے۔لیکن دہشت گردی کے خلاف اقدامات کو انسانی حقوق کی پامالی کا باعث نہیں بنانا چاہیے۔
اس بیان میں ایمنسٹی نے نئے قوانین میں شامل کئی شقوں کو جن میں عدالتوں میں بندے کمرے میں مقدمات چلانے، غیر قانونی تارکین وطن کی ضمانت پر رہائی میں سختی اور کچھ ملزمان کو اپنی بے گناہی ثابت کرنے والی تجاویز شامل ہیں تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا کہ بھارت میں ماضی میں ایسے قوانین کو غلط طور پر استعمال کیئے جانے کی روایات ملتی ہیں۔
مدھو ملہوترا نے بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ نئے قوانین بدنام پوٹا قوانین سے زیادہ سخت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کو قوانین سخت کرنے سے زیادہ پولیس اور عدالتی نظام میں اصلاحات اور مختلف محکموں میں رابطے بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔
بھارت میں سرکاری طور پر ایمنسٹی کے اس بیان پر کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا ہے۔ تاہم بائیں بازو کی جماعتوں اور مسلمان تنظیموں نے ان قوانین پر تشویش ظاہر کی ہے۔
بھارت میں کمیونسٹ پارٹی کے رہنما باسودب اچاریہ نے امریکی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ کسی شخص کو ایک سو اسی دن تک حراست میں رکھنا اس کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔