http://bbc.com.im/urdu/

Wednesday, 17 December, 2008, 12:58 GMT 17:58 PST

نعیمہ احمد مہجور
بی بی سی اردوڈاٹ کام، دہلی

کشمیر میں ووٹ بھی اور آزادی بھی

ریاست جموں و کشمیر میں تقریباً ایک ماہ سےجاری انتخابی عمل کے دوران کچھ دلچسپ باتیں سامنے آ رہی ہیں جو نہ صرف بھارت نواز سیاست دانوں کے لیے ایک معمہ بن رہی ہیں بلکہ یہاں موجود آزادی پسند لیڈرشپ کے لیے ایک پہیلی سے کم نہیں۔

چند ہفتے قبل یہ کسی کے وہم و گمان میں نہیں تھا کہ وہی لوگ بھاری تعداد میں ووٹ ڈالنے کے لیے پولنگ بوتھوں کے باہر بے صبری سے قطار در قطار انتظار کریں گے جو لاکھوں افراد پر مشتمل جلوسوں کی قیادت کر رہے تھے۔

امرناتھ شرائن بورڈ کو زمین کی منتقلی کے تنازعے کے بعد پرُ تشدد حالات کے پس منظر میں جوسیاست دان سمجھ رہے تھے کہ انتخابات کے لیے ماحول سازگار نہیں ہے وہ ووٹروں کی قطاریں دیکھ کر اپنی آنکھوں پر یقین ہی نہیں کرپا رہے ہیں۔
ایک بڑا سوال ہر کوئی دوسرے شخص سے پوچھ رہا ہے کہ آزادی کے حق میں نکالنے والےجلسے جلوس سچ تھے یا پولنگ بوتھوں پر ووٹروں کی تعداد سچ ہے؟
ہر ووٹر اسکا ایک ہی جواب دے رہا ہے۔

آزادی کے جلوس بھی حقیقت تھے اور اپنی مرضی سے ووٹ ڈالنے کا عمل بھی سچ ہے دونوں کی اہمیت اپنی جگہ اٹل ہے اور دونوں کو ملایا نہیں جاسکتا ہے۔

پانپور کے ایک بزرگ ووٹر عبدالرحیم کہتے ہیں کہ انہوں نے ووٹ ڈال کر اپنی سیکورٹی پر مہر ثبت کردی کیونکہ کل کو خدانخواستہ کوئی نیم فوجی گھر میں تلاشی کے بہانے آگیا تو وہ مقامی اسمبلی ممبر کے پاس جا کر اس کے خلاف شکایت درج کرسکتا ہے اور اس سے کارروائی کا تقاضہ کرسکتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ بیشتر انتخابی امیدوار بھی ان ہی خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ انتخابات کا مقصد لوگوں کو بنیادی سہولیات پہنچانا ہے اور وہ آزادی کے مطالبے سے دستبردار نہیں ہوئے ہیں۔

امیراکدل انتخابی حلقے کی آزاد امیدوار صبیہ قادری کہتی ہیں کہ انہوں نے لوگوں کو کبھی آزادی کی مانگ سے دستبردار ہونے کی صلاح نہیں دی تاہم حصول آزادی کے ساتھ لوگوں کو پانی چاہے بجلی کی فراہمی چاہیے اور بے روزگاری سے نجات بھی۔ لوگ ترقیاتی کاموں کے لیے ووٹ ڈال رہے ہیں اور آزادی کے جذبے سے سرشار بھی ہیں۔

بھارت نواز سیاست دان فخر سے کہتے ہیں کہ اصل جمہوریت کی پہچان یہی ہے کہ لوگ ووٹ بھی ڈال رہے ہیں اور آزادی کے لیے جلوس بھی نکالتے ہیں۔

ووٹروں سے تبادلہ خیال کے دوران یہ بات واضح ہوگئی کہ عوام پہلے اپنا تحفظ چاہتے ہیں اور بنیادی حقوق کی عملداری بھی جو انہیں مقامی انتظامیہ سے ملنے کی امید ہے لیکن جب آزادی کا سوال اٹھتا ہے تو وہ علیحدگی پسند قیادت کی جانب دیکھتے ہیں۔

موجود ہ حالات جہاں بھارت نواز سیاسی جماعتوں کے لیے باعث تشویش ہیں وہیں آزادی پسند لیڈرشپ بھی مخمصے کا شکار ہے۔