Thursday, 11 December, 2008, 12:17 GMT 17:17 PST
بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما لال کرشن اڈوانی نے پارلیمنٹ میں ممبئی پر ہوئے حملے کے سلسلے میں جاری بحث کے دوران کہا ہے کہ یہ دنیا اور ملک کے دشمنوں کو پیغام دینا کا وقت ہے، یہ ایک جنگ کی صورت ہے اور اس معاملے پر حکومت اور حزب اختلاف ایک ساتھ ہے۔
ادھر بھارت میں اقوامِ متحدہ کی طرف سے جماعت الدعوۃ کو دہشتگرد تنظیم قرار دیئے جانے اور اس پر اور حافظ سعید پر پابندی لگانے کے فیصلے پر ملا جلا ردِ عمل سامنے آیا ہے۔
لا کرشن اڈوانی کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں یہ واضح ہی نہیں ہے کہ حکمرانی کے اختیارات کس کے پاس ہیں ؟’اختیارات وزیر اعظم یا صدر کے پاس ہیں یا پھر خفیہ ایجنسی آئی ایس ائی کے پاس۔‘
ان کا کہنا تھا’حکومت سخت سے سخت کارروائی کرے اور ہم ان کے ساتھ ہیں۔‘
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان کو پاکستان سے آنے والی اس طرح کی خبروں پر بھروسہ نہیں کرنا چاہیے کہ وہاں شدت پسندوں یا تنظیموں کے خلاف کسی طرح کا آپریشن جاری ہے۔
اڈوانی نے زور دے کر کہا ’یہ دہشتگردی نہیں بلکہ سرحد پار سے جاری دہشتگردی ہے، اس پر جیت حاصل کرنا مشکل عمل نہیں ہے اور ہم اس پر جیت حاصل کر کے ہی رہیں گے۔ پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے ’نان سٹیٹ ایکٹر‘ کی بات کہی ہے، لیکن یہ ہوتا کیا ہے۔‘
انہوں نے حکومت سے سخت اقدام کرنے پر زور دیا ہے کہا ’اگر ہندوستان کی حکومت ایسا کرتی ہے تو حزب اختلاف اس کے ساتھ کھڑا ہوگی۔‘