http://bbc.com.im/urdu/

Thursday, 11 December, 2008, 01:44 GMT 06:44 PST

ریحانہ بستی والا
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ممبئی

قصاب 24 دسمبر تک حراست میں

سرکاری وکیل ایکناتھ دھامل کے مطابق ملزم اجمل امیر قصاب کو چیف میٹروپولیٹین مجسٹریٹ این سی مانگے نے چوبیس دسمبر تک پولیس حراست میں رکھنے کا حکم جاری کیا ہے۔

قصاب کو عدالت میں پیش نہیں کیا گیا تھا۔

اس سے قبل ممبئی پولیس میں کرائم برانچ کے جائنٹ کمشنر راکیش ماریا نے کہا تھا کہ ممبئی شہر پر حملوں کے ملزم اجمل امیر کو جمعرات کو جنوبی ممبئی کی ایک عدالت میں پیش نہیں کیا جائے گا بلکہ ان کے خلاف ریمانڈ کی کارروائی کرائم برانچ میں ہی کروانے کے لیے مجسٹریٹ سے درخواست کی گئی ہے۔

ماریا کا کہنا تھا کہ اجمل تمام تفتیشی ایجنسیوں کے لیے ایک اہم ثبوت ہے اس لیے وہ کسی طرح کا رسک لینا نہیں چاہتے۔اجمل کے کیس کی سماعت کرائم برانچ میں ہو گی۔اجمل اس وقت کرائم برانچ کے لاک اپ میں ہیں جہاں کئی تفتیشی ایجنسیاں تفتیش کر رہی ہیں۔

پاکستان میں سرگرم گرہوں پر پابندی؟رائے دیں
’سب کا تعلق پاکستان سے‘
کارروائی جاری ہے، تفتیش ہو رہی ہے: گیلانی
جماعت الدعوۃ پر پابندی لگائی جائے: انڈیا

اجمل کی گرفتاری کے بعد انہیں ممبئی کے قلعہ کورٹ میں پیش کیا گیا تھا اور عدالت نے انہیں گیارہ دسمبر تک پولیس حراست میں رکھنے کا حکم دیا تھا۔ جمعرات کو اس حراست کی مدت ختم ہو رہی ہے۔

ممبئی پولیس کا کہنا ہے کہ اجمل ان دس حملہ آوروں میں سے ایک تھے جنہوں نے چھبیس نومبر کو ممبئی میں مختلف مقامات پر حملے کر کے تقریباً ایک سو ستر لوگوں کو ہلاک کیا۔ اجمل پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے ایک ساتھی کے ساتھ مِل کر ممبئی کے سی ایس ٹی سٹیشن اور دو دیگر مقامات پر فائرنگ کی جہاں تین پولیس افسروں سمیت پچاس لوگ ہلاک ہوئے تھے۔

دریں اثناء انڈیا کے وزیر داخلہ پی چدمبرم جمعرات کو پارلیمان میں بیان دیں گے کہ ممبئی حملوں کے مقدمے میں کیا تفتیش ہو رہی ہے اور پاکستان کے ساتھ اس معاملے کو کس طرح طے کیا جا رہا ہے۔ وزیر داخلہ یہ بھی بتائیں گے کہ حکومت مستقبل میں اس طرح کے حملوں کی روک تھام کے لیے کس طرح کی تیاریاں کر رہی ہے۔