Wednesday, 03 December, 2008, 01:45 GMT 06:45 PST
امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس اپنا یورپ کا دورہ مختصر کر کے آج دلی پہنچ رہی ہیں جہاں وہ ممبئی حملوں کے بعد کی صورتحال پر بھارتی حکام سے تبادلۂ خیال کریں گی۔
برسلز میں اپنی روانگی سے قبل انہوں نے بھارت اور پاکستان دونوں پر ایک دوسرے سے رابطے برقرار رکھنے کے لیے زور دیا اور کہا کہ انہیں مل کر ان حملوں کی سازش کرنے والے عناصر کو بے نقاب کرنا چاہئے۔
انہوں نے کہا ’میں یقیناً بھارتی عوام سے اظہار یکجتی کرنے جا رہی ہوں۔ یہ دہشتناک حملے تھے۔ ان میں امریکی بھی ہلاک ہوئے اور یہ بات امریکا کے لیے باعث تشویش ہے۔ اس سازش کی تہہ تک پہنچا ضروری ہے اور اس کے لیے سب کو تعاون کرنا ہوگا اور پاکستان کے لیے بالخصوص ضروری ہے کہ وہ مکمل اور شفاف تعاون کرے۔ اور مجھے یہ جان کر اطمینان ہوا ہے کہ پاکستانی حکام اس کے لیے آمادہ ہیں۔‘
ادھر واشنگٹن میں امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس کا کہنا ہے کہ امریکی مسلح افواج کے سربراہ ایڈمرل مائک مُلن بھی اسی مقصد کے لیے خطے کا دورہ کر رہے ہیں۔
ممبئی میں ایک ہفتے قبل کیے گئے ان حملوں میں کم سے کم ایک سو اسی افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں کا تعلق پاکستان سے ہے۔ بھارت کے وزیرخارجہ پرنب مکھرجی نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ان حالات میں پاکستان کے ساتھ قیام امن کے عمل کو جاری رکھنا دشوار ہوگا تاوقتکہ پاکستان ان حملوں میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی نہیں کرتا۔
انہوں نے کہا کہ ’ہم قیام امن کے عمل کو روکنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ مگر یہ بات طے ہے کہ جب لوگوں کے جذبات مجروح ہوں تو ایک ایسا ماحول پیدا ہوجاتا ہے جو معمول کے مطابق کام کے لیے سازگار نہیں ہوتا ۔۔۔ اُس کا کچھ نہ کچھ اثر ہوتا ہے۔ اس لیے ان واقعات کے سلسلے میں اگر دوسری جانب سے مناسب کارروائی نہیں کی جاتی تو پھر ایسا ماحول پیدا ہوجائے گا جس میں قیام امن سمیت معمول کے تمام مُعاملات کی جانب پیش رفت مشکل ہو جائےگی۔‘