Wednesday, 03 December, 2008, 12:42 GMT 17:42 PST
ہندوستان کی بحریہ کے سربراہ ایڈمرل سریش مہتہ نے کہا ہے کہ بحریہ کے پاس ممبئی حملوں سے متعلق عمومی نوعیت کی معلومات تھی لیکن ایسی کوئی اطلاع نہیں ملی جس پر قدم اٹھایا جا سکتا۔
ان کا کہنا تھا ’حالانکہ سکیورٹی فورسز اور خفیہ ادارے خفیہ اطلاعات کا تبادلہ کرتے ہیں لیکن ضروری یہ ہے کہ جو اطلاعات فراہم کی جائے اس پر کارروائی کرنا ممکن ہو۔‘
حملہ آوروں کے ممبئی میں داخل ہونے کو انہوں نے ملک کی سکیورٹی اور انٹیلیجنس ’نظام کی ناکامی‘ قرار دیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ملک میں 1.5 لاکھ ٹراؤلز رجسٹرڈ ہیں اور صرف گجرات اور مہاراشٹر میں ہی ایک تہائی ٹرائلرز رجسٹرڈ ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ممبئی میں رجسٹرڈ ٹراؤلر کی تعداد 15000 ہزار ہے۔
ان کا کہنا تھا ’اس سے یہ ظاہر ہے کہ ہر روز تقریباً پانچ ہزار افراد روزانہ ممبئی آتے جاتے ہیں۔ اس درمیان پاکستان کشتیوں کی تلاش کی جا سکتی ہے لیکن اس وقت کیا کیا جا سکتا ہے جب کوئی آپ کی ہی کشتی پر سوار ہو۔‘
اس سے قبل امریکی ذرائع ابلاغ نے نام ظاہر نہ کرنے والے ایک امریکی اہلکار کے حوالے سے یہ خبر جاری کی تھا کہ امریکہ نے بھارت کو ایک ماہ قبل ممبئی میں گزشتہ ہفتے ہونے والے ممکنہ خطرے سے آگاہ کیا تھا۔
پولیس کے مطابق چھبیس نومبر کو ممبئی پر حملوں کے حملہ آور سمندر کے راستے ممبئی میں داخل ہوئے تھے۔
اس قسم کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں کہ پاکستان کے کراچی شہر سے شروع ہو کر ایک کشتی ہندوستان کے پوربندر شہر میں رکی اور پھر وہاں سے ایک گجراتی کشتی سے ممبئی تک آئی۔