Monday, 01 December, 2008, 10:48 GMT 15:48 PST
ریحانہ بستی والا
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ممبئی
مسلم کونسل اور شہر کی دیگر ممتاز مسلم تنظیموں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ممبئی پر حملہ کرنے والے نو شدت پسندوں کو کسی بھی قبرستان میں دفنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
مسلم کونسل کے صدر ابراہیم طائی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اسلام امن و آشتی کا مذہب ہے اس میں کسی بھی شخص کو کسی معصوم کی جان لینے کی اجازت نہیں ہے۔ ان شدت پسندوں نے بے گناہ معصوموں کی جان لے کر غیر اسلامی فعل کیا ہے اس لیے ایسے افراد کو سماج تو کیا قبرستان میں بھی جگہ نہیں دی جا سکتی۔‘
علما ایسوی ایشن کے صدر مولانا اطہر کا کہنا تھا کہ بدلے کے جذبہ کے تحت بھی کسی کا خون بہانا اسلام میں جائز نہیں ہے۔ ان شدت پسندوں نے جو غیر اسلامی فعل کیا ہے اس کی جتنی مذمت کی جائے وہ کم ہے اس لیے ایسے افراد کو قبرستان میں جگہ دینا بھی نہیں چاہیے۔
شیعہ مذہبی رہنما مولانا ظہیر عباس رضوی نے بھی مسلم کونسل کے اس فیصلہ کی حمایت میں کہا کہ دنیا کے کروڑوں اربوں مسلمانوں کی جانب سے بدلہ لینے کا حق ان چند شدت پسندوں کو کس نے دیا۔ ہم دنیا بھر کے مسلمان جس آفاقی کتاب پر عمل کرتے ہیں اس میں معصوموں کی جان لینے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔
مسلم تنظیموں کی جانب سے کیے گئے اس فیصلہ پر شریعت کیا کہتی ہے اس پر مفتی سلیم اختر نے کہا کہ اسلام نے اس طرح کی ممانعت نہیں کی ہے لیکن اسلام البتہ یہ کہتا ہے کہ غلط اور ناجائز کام کرنے والوں کو قبرستان میں سب سے علیحدہ ایسے مقام پر دفنایا جائے اور انہیں دیگر نیک انسانوں کے درمیان جگہ نہ دی جائے تاکہ لوگوں کو عبرت حاصل ہو۔
ممبئی میں ہونے والے حملے میں نو شدت پسند مارے گئے تھے۔ پولیس کے مطابق یہ شدت پسند مبینہ طور پر لشکر طیبہ سے تعلق رکھتے تھے اور سب مسلمان تھے۔ ان کا پوسٹ مارٹم ہو چکا ہے اور ان کی تدفین کا مسئلہ تنازعہ کی صورت اختیار کر گیا ہے۔