Wednesday, 19 November, 2008, 18:00 GMT 23:00 PST
ریاض مسرور
بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، سرینگر
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیرمیں آزادی پسند عوامی تحریک کی نئی لہر کے پس منظر میں سترہ نومبر کی پولنگ میں ’اچھی شرح‘ ریکارڑ کی گئی۔ اب عوامی اور سیاسی حلقوں میں اس سوال پر بحث ہو رہی ہے کہ نئی دلّی اور علیحدگی پسندوں کے درمیان ’سیاسی زور آزمائی‘ کے اس تازہ راؤنڈ میں کس کی فتح ہوئی؟
اپنی اپنی سطح پر حکومت اور حُریت کانفرنس دونوں ہی الیکشن کے انعقاد کو اپنی اپنی ’فتح‘ سے تعبیر کرتے ہیں۔ جہاں صوبائی گورنر نے پولنگ کی ’اچھی شرح‘ کو ووٹروں کی طرف سے جمہویت پر اعتماد کے اظہار اور سیاسی بیداری سے تعبیر کیا وہیں علیحدگی پسند ایک مخصوص استدلال کی بنیاد پر الیکشن کے پہلے مرحلے کو اپنی اخلاقی فتح کہتے ہیں۔
پچھلے پندرہ روز سے اپنے گھر میں نظر بند کیے گئے علیٰحدگی پسند رہنما سجاد غنی لون نے بی بی سی کو فون پر بتایا ’میں انکار نہیں کرتا کہ لوگ ووٹ ڈالنے نکلے، لیکن حقیقیت یہ ہے کہ وہ مقامی مسائل کے لیے نکلے۔ کہیں انہوں نے سرکار نواز بندوق برداروں کے خلاف ووٹ دیا، اور کہیں انہیں یہ بتایا گیا تھا کہ اگر وہ ووٹ ڈالیں گے تو فوج کے ظلم سے انہیں نجات ملے گی۔‘
مسٹر لون نے کہا کہ اگر حکومت ہند کو یہ یقین ہوگیا ہے کہ لوگ علیحدگی پسندوں کے خلاف ہیں تو اسے تمام گرفتار شدہ لوگوں کو رہا
کر کے ایک متوازی بائیکاٹ مہم کی اجازت دینی چاہیے۔’اس کے بعد بھی اگر لوگ ووٹنگ میں حصہ لیتے ہیں تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ ووٹ
ہمارے نظریے کے خلاف تھا۔‘
![]() |
|
| انتخابات نئی دلّی اور علیحدگی پسندوں کے درمیان ’سیاسی زور آزمائی‘ ہے |
غیر جانبداری عوامی حلقوں میں یہ خیال زور پکڑ رہا ہے کہ حریت کانفرنس کو انتخابات اور مسئلہ کشمیر کے درمیان امتیاز کرنا چاہیے۔ معروف اُردو روزنامہ چٹان کے مدیر اعلیٰ طاہر محی الدین اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں ’اگر لوگوں سے یہ کہا گیا ہوتا کہ ان کے ووٹ ڈالنے سے مسئلہ کشمیر حل ہونا ہے تو یہ نتیجہ نہیں نکلتا جو آپ نے دیکھا۔ دراصل اس میں حریت والوں کے لیے بھی سبق ہے۔ انہیں پچھلے بیس سال سے جاری بائیکاٹ پالیسی پر نظرثانی کرنی چاہیے۔‘