http://bbc.com.im/urdu/

Wednesday, 29 October, 2008, 11:17 GMT 16:17 PST

ریحانہ بستی والا
بی بی سی اردو ڈاٹ کام ، ممبئی

مالیگاؤں: سابق میجر کا ریمانڈ

ناسک کی عدالت نے مالیگاؤں بم دھماکے کے ملزم سابق فوجی میجر رمیش اُپادھیائے اور ان کے ساتھ گرفتار سیاسی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے مبینہ رکن سمیر کلکرنی کو دس نومبر تک پولیس حراست میں رکھنے کا حکم دیا۔

ممبئی انسداد دہشت گردی کے عملے یعنی اے ٹی ایس نے گزشتہ دنوں سخت گیر ہندو تنظیموں کے تین اراکین کو مالیگاؤں بم دھماکے کے الزام میں گرفتار کیا اور ان سے تفتیش کے بعد اے ٹی ایس نے فوج کے سابق میجر اپادھیائے کو پونے اور سمیر کو بھوپال سے گرفتار کیا تھا۔

دونوں ملزموں سے تفتیش کے بعد اے ٹی ایس نے انہیں بدھ کو ناسک کی عدالت میں پیش کیا جہاں میجر اپادھیائے نے عدالت کے روبرو کہا کہ وہ فوج میں بائیس سال گزار چکے ہیں۔ وطن کے وفادار ہیں۔وہ سادھوی سے صرف تین مرتبہ ہی ملے ہیں ان کا مالیگاؤں دھماکے میں ہاتھ نہیں ہے۔

سابق میجر نے اے ٹی ایس کے ذریعہ مبینہ تشدد کی بھی شکایت کی۔ عدالت نے ملزمان کو دس نومبر تک پولیس حراست میں رکھنے کا حکم دیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق اپادھیائے نے پونے میں ہی ہندؤں کے مفاد کے لیے ’ابھینو بھارت‘ نامی تنظیم کی بنیاد ڈالی ہے اور سمیر کلکرنی بھی اس کے ممبر ہیں۔ سمیر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی طلباء ونگ اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد کے سرگرم رکن رہ چکے ہیں۔

اے ٹی ایس نے مالیگاؤں دھماکے میں ہندو سخت گیر تنظیم کے اراکین کو ملوث بتایا ہے اور اس سلسلہ میں اے ٹی ایس نے اب تک پانچ افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ سب سے اہم ملزم کے طور پر سادھوی پرگیہ سنگ ٹھاکر کا نام سامنے آیا ہے۔ عدالت نے ان کے نارکو ٹیسٹ کرنے کی اجازت بھی دی ہے۔
مالیگاؤں میں دھماکے کے بعد ایک اور تصویر

اے ٹی ایس بہت جلد مزید گرفتاریاں کر سکتی ہے۔ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق ابھی اے ٹی ایس کی حراست میں آٹھ اور افراد ہیں جن میں ایک فوجی بھی شامل ہے۔ اے ٹی ایس نے اپنی تفتیش میں یہ انکشاف کیا ہے کہ آر ایس ایس اور وشو ہندو پریشد جیسی سخت گیر ہندو تنظیموں کے اراکین کو فوج کے چند افسران تریبت دیتے رہے ہیں اور ان کی یہ تربیت ناسک اور ناگپور کی ملٹری سکول میں ہوئی ہے۔