Sunday, 26 October, 2008, 10:58 GMT 15:58 PST
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر کے سرحدی قصبے بارہمولہ میں بھارت مخالف احتجاجی مظاہرے پر پولیس کی فائرنگ سے ایک نوجوان ہلاک اور دو افراد شدید طور پر زخمی ہوگئے ہیں۔ زخمیوں کی حالت نازک ہے۔
اس واقعے کے بعد علاقے میں حالات بہت کشیدہ ہوگئے ہیں اور حالات پر قابو پانے کے لیے کرفیو نافذ کردیا گیا ہے۔
بارہمولہ کے مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ جمعہ کے روز ہڑتال کے دوران سینٹرل ریزرو فورس کے جوانوں نے ان کے مکانوں میں توڑ پھوڑ کی تھی اور عوام کو ہراساں کرنے کے لیے کئی لوگوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
اتوار کے روز لوگ سی آر پی ایف کی کارروائیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کر رہے تھے تبھی یہ تصادم شروع ہوا۔ مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا جس کے جواب پولیس نے پہلے آنسوگیس کا استعمال کیا اور بعد میں مظاہرین پر گولی چلائی۔
پولیس کی گولی سے بیس برس کے لڑ کے عرفان کی موقع پر ہی موت ہوگئی جبکہ دو افراد کو ہسپتال میں بھرتی کیا گیا ہے۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ پولیس نے ضرورت سے زیادہ طاقت کا استعمال کیا ہے۔
بھارتی حکومت نےکشمیر میں انتخابات کا اعلان کیا ہے جس کی علحیدگی پسند جماعتیں مخالفت کر رہی ہیں۔ حکومت نے کہا ہے کہ وہ علحیدگی پسندوں کے خلاف سخت کارروائی کرے گی جس کے تحت کئی رہنماؤں کوگرفتار کیا جا چکا ہے۔