Friday, 19 September, 2008, 11:14 GMT 16:14 PST
ہندوستان کی مرکزی حکومت اڑیسہ اور کرناٹک کی ریاستوں کے خلاف دفعہ 355 نافذ کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ دفعہ 355 کے تحت مرکزی حکومت کو یہ اختیار مل جاتا ہے کہ وہ کسی بھی ریاست میں ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے اقدامات کر سکے۔
اڑیسہ اور کرناٹک میں مرکزی حکومت کے اقدام کی وجہ وہاں عیسائیوں پر ہونے والے حملے ہیں۔
اڑیسہ میں تئیس اگست کے بعد سے مسلسل عیسائیوں اور گرجا گھروں پر حملے ہو رہے ہیں اور وہاں اس دوران کم از کم 18 افراد ہلاک ہوئے ہیں اور سینکڑوں لوگوں کو گھر چھوڑ کر جانا پڑا ہے۔ اسی طرح کرناٹک میں پچھلے ہفتے سے گرجا گھروں پر حملوں کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔
مرکزی حکومت نے جمعرات کو دونوں ریاستوں کے خلاف دفعہ 355 کے تحت کارروائی کرنے پر غور کیا اور مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ شری پرکاش جائسوال نےصحافیوں کے ساتھ بات چیت میں حکومت کے اس قدام کی تصدیق کی ہے۔
ان دونوں ریاستوں میں حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی اقتدار میں ہے۔
![]() |
|
| کرناٹک میں حال ہی میں بی جے پی اقتدار میں آئی ہے۔ جنوبی ہندوستان میں بی جے پی کی پہلی جیت ہے |
جبکہ دفع 356 کے تحت اگر کوئی ریاستی حکومت حالات سمبھالنے میں ناکام نظر آتی ہے تو اس ریاستی حکومت کو مرکزی حکومت برخاست کر کے وہاں صدر راج نافذ کر سکتی ہے۔
کئی سیاسی پارٹیاں بشمول کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا اور مارکسی کمیونسٹ پارٹی ان دفعات کے اطلاق کی مخالفت کرتی رہی ہیں۔
سب سے زیادہ مرتبہ دفع 356 کو جھیلنے والی بھارتیہ جنتا پارٹی نے گزشتہ برس نندی گرام میں ہونے والے تشدد کے بعد مغربی بنگال ميں دفعہ 355 نافذ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔