Friday, 19 September, 2008, 08:50 GMT 13:50 PST
ریاض مسرور
بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، سرینگر
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں جون سے جاری احتجاجی مہم کے دوران خون خرابہ کا جائزہ لینے کے بعد وادی کی علیٰحدگی پسند قیادت نے عوامی احتجاج کے دوران پولیس یا حکومتی اداروں پر پتھراؤ نہ کرنے کا حکم دیا ہے۔
اس دوران جمعہ کی نماز کے بعد احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں جبکہ سنیچر کو مکمل ہڑتال کی کال دی گئی ہے۔
یہاں کے بااثر علیحدگی پسند رہنما سید علی گیلانی نے اعلان کیا ہے کہ پولیس اور سرکاری املاک پر پتھراؤ کرنا موجودہ تحریک کا حصہ نہیں ہے۔
انہوں نے جمعہ کے روز رابطہ کمیٹی کی کال پر ہونے والے احتجاجی مظاہرے کی مناسبت سے ایک بیان میں کہا’ عوامی جلسے جلوسوں میں ہندوستانی
ایجنیسوں کے لوگ شامل ہوجاتے ہیں، وہ تشدد کرتے ہیں اور فوج و نیم فوجی عملے کو عام لوگوں پر گولیاں برسانے کا جواز بھی فراہم
کرتے ہیں۔ایسے ایک نوجوان کو لوگوں نے بارہمولہ میں رنگے ہاتھوں پکڑ لیا ہے۔‘
|
|
قابل ذکر ہے کہ اُنیس سو نوّے میں برپا ہوئی مسلح شورش کے مقابلے موجودہ عوامی تحریک واضح طور پر پرامن رہی۔
پاکستان کےزیرانتظام کشمیر میں مقیم کشمیر کی آزادی کے لیے سرگرم عسکری تنظیموں کے اتحاد متحدہ جہاد کونسل کے سربراہ سید صلاح الدین نے پہلے ہی رمضان کے مہینے میں ’سیز فائر‘ کا اعلان کیا ہے، اور ساتھ ہی وادی میں سرگرم عسکریت پسندوں کو ہدایات جاری کردی ہیں کہ وہ ایسے مقامات پر کارروائیاں کرنے کے گریز کریں جہاں سے عوامی جلسے منعقد ہورہے ہوں۔