Saturday, 06 September, 2008, 11:58 GMT 16:58 PST
متنازعہ ہند امریکہ جوہری معاہدے کو جوہری سازو سامان فراہم کرنے والے ممالک کے گروپ (این ایس جی) نے اپنی منظوری دے دی ہے۔
اس طرح ہندوستان پر ایک لمبے عرصے سے جاری جوہری سازوسامان کی تجارت پر عائد پابندی ختم ہو جائے گی۔ ہندوستان پر یہ پابندی 1974 میں کیے گئے جوہری دھماکے کے بعد عائد کی گئی تھی۔
ہند امریکہ سویلین جوہری معاہدے کے لیے این ایس جی ممالک سے منظوری حاصل کرنا ایک اہم اور مشکل مرحلہ تھا۔ اس منظوری کے بعد اب اس معاہدے کو اپنے آخری مرحلے کے لیے امریکی کانگریس میں پیش ہونا ہے۔
بین الاقوامی اور اندرونی سطح پر اس معاہدے کو کئی مشکلات سےگزرنا پڑا تھا۔
سنیچر کو وینا میں پینتالیس ممالک کے سہ روزہ اجلاس میں عام رائے سے اس معاہدے کے تحت امریکہ کی جانب سے ہندوستان کو توانائی کے لیے جوہری ٹیکنالوجی فروخت کرنے کے معاہدے کو منظور کر لیا گیا۔
حالانکہ یہ اجلاس دو روز کے لیے مقرر کیا گیا تھا لیکن بعض ممالک نے ہندوستان کی جانب سے جوہری عدم توسیع یعنی این پی ٹی کے معاہدے
پر دستخط نہ کرنے پر اعتراض ظاہر کیا تھا۔ ان ممالک میں نیدرلینڈ، آسٹریا، ناروے، سوٹزرلینڈ، آئر لینڈ اور چین شامل تھے۔
|
|
واضح رہے کہ اس معاہدے کے این ایس جی سے منظوری کو بارے میں ہندوستان پر امید تھا کیوں کہ این ایس جی میں منظوری کا سارا دارو مدآر امریکہ پر تھا اور امریکہ نے اس معاہدے کو منظوری دلانے کے لیے بھرپور کوششیں کی ہیں۔
اس معاہدے کی این ایس جی میں منظوری کو ملکی میڈیا ایک تاریخ ساز فتح کے طور پر پیش کر رہا ہے۔