http://bbc.com.im/urdu/

Friday, 29 August, 2008, 08:40 GMT 13:40 PST

تشدد کےمخالف عیسائیوں کا بند

ہندوستان کی ریاست اڑیسہ میں انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ کندھمال ضلع میں ہندوؤں اور عیسائیوں کے درمیان ہوئے فسادات کے بعد حالات اب کچھ بہتر ہوئے ہیں۔ حالات میں بہتری کو دیکھتے ہوئے کرفیو میں کچھ وقفے کی نرمی دی گئی ہے۔

دوسری جانب ٹیکا بالی اور جی ادوئے گری علاقوں سے پھر تشدد بھڑکنے کی خبر موصول ہوئی ہے۔

سنیچر سے جاری تشدد میں کندھمال اور گجتپی اضلاع میں گیارہ افراد مارے جا چکے ہیں۔ لیکن کیتھولک عیسائیوں کا کہنا ہے کہ ان کی جانکاری کے مطابق مرنے والوں کی تعداد تیرہ ہو چکی ہے۔

اڑیسہ میں ہوئے تشدد کے خلاف احتجاج کے طور پر ملک کے کیتھولک پادریوں کی سب سے بڑی تنظیم نے جمعہ کو پورے ملک میں کیتھولک عیسائیوں کی سکولوں کو بند رکھنے اور تشدد کے خلاف پر امن ریلیاں منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ تنظیم ملک میں پچیس ہزار سکول اور کالج چلاتی ہے۔

پاپائے روم پہلے ہی تشدد کے ان واقعات کی مذمت کر چکے ہیں۔ اس درمیان اٹلی کی حکومت نے بھی ان واقعات کی مذمت کرتے ہوئے فوری طور پر اقدام کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

کندھمال ضلع میں ہندوؤں اور عیسائیوں کے درمیان ہوئے تشدد کے بعد حالات ميں بہتری آئی ہے لیکن اب بھی آٹھ شہروں میں کرفیو جاری ہے۔

سخت گیر ہندؤ نظریاتی تنظیم وشو ہندؤ پریشد کے رہنما لکشمنانند کے قتل کے بعد سنیچر سے ہی وہاں تشدد شروع ہوگیا تھا۔

عیسائیوں کے سب سے بڑے مذہبی رہنما پوپ بنیڈکٹ سولہ نے اڑیسہ میں ہندؤوں اور عیسائیوں کو درمیان تشدد کے واقعات کی مذمت کی ہے۔

ویٹیکن میں اپنے ہفتہ وار خطاب میں پاپائے روم نے کہا کہ انہیں اس واقعہ کا بےحد افسوس ہے اور انہوں نے دونوں برادریوں سے امن بحال کرنے کی اپیل کی۔

ان کا کہنا تھا’میں انسانوں پر کیے گئے کسی بھی قسم کے حملے کی مذمت کرتا ہوں۔ میں اپنے بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ روحانیت اور یکجہتی ظاہر کرنا چاہتا ہوں جن کے ساتھ اتنا خراب برتاؤ کیا جا رہا ہے۔‘.

اس کے علاوہ انہوں نے سوامی لکشمنانند کے قتل کی بھی مذمت کی تھی۔

پیر کو وی ایچ پی کی جانب سے بند کا اعلان کیا گیا تھا جس دوران عیسائیوں کو نشانہ بنایا گا اور کئی گرجہ گھروں کو آگ لگا دی گئی۔

اڑیسہ ميں عیسائیوں پر پہلے بھی حملے ہوتے رہے ہیں۔ 22 جنوری 1999 کو آسٹریلیائی مشنری گراہم سٹین اور ان کے دو بیٹوں کے آگ میں جھلسی ہوئی لاشیں کیونجھر علاقے کے منوہ پور گاؤں میں ان کی جیپ میں پائے گئے تھے۔