Thursday, 28 August, 2008, 11:17 GMT 16:17 PST
سندیپ ساہو
اڑیسہ
ہندوستان کی ریاست اڑیسہ کے کندھمال ضلع میں ہندؤ اور عیسائیوں کے درمیان ہوئے تشدد کے بعد حالات کشیدہ ہیں اور اٹھ شہروں میں کرفیو جاری ہے۔
بدھ کو انتظامیہ نے سکیورٹی فورسز کو حکم دیا تھا کہ وہ بلوائیوں کو سڑک پر دیکھتے ہی گولی مار دیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ کرفیو کے باوجود تشدد اور فساد نہیں رکے جس کے سبب انہیں یہ قدم اٹھانا پڑا۔
سخت گیر ہندؤ نظریاتی تنظیم وشو ہندؤ پریشد کے رہنما لکشمنانند کے قتل کے بعد سنیچر سے ہی وہاں تشدد شروع ہوگیا تھا۔
عیسائیوں کے سب سے بڑے مذہبی رہنما پوپ بنیڈکٹ نے اڑیسہ میں ہندؤوں اور عیسائیوں کو درمیان تشدد کے واقعات کی مذمت کی ہے جس میں گیارہ افراد مارے جا چکے ہیں۔
ویٹیکن میں اپنے ہفتہ وار خطاب میں پاپائے روم نے کہا کہ وہ انہیں اس واقعہ کا بےحد افسوس ہے اور انہوں نے دونوں برادریوں سے امن بحال کرنے کی اپیل کی۔
ان کا کہنا تھا’میں انسانوں پر کیے گئے کسی بھی قسم کے حملے کی مذمت کرتا ہوں۔ میں اپنے بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ روحانیت اور یکجہتی ظاہر کرنا چاہتا ہوں جن کے ساتھ اتنا خراب برتاؤ کیا جا رہا ہے۔‘.
اس کے علاوہ انہوں نے سوامی لکشمنانند کے قتل کی بھی مذمت کی ہے۔
حالات کی کشیدگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ بدھ کو داخلی امور کے وزیر مملکت سری پرکاش جیسوال اڑسہ کے دورے پر تھے لیکن انہیں متاثرہ علاقے کا دورہ کرنے نہیں دیا گيا۔
پیر کو وی ایچ پی کی جانب سے بند کا اعلان کیا گیا جس دوران عیسائیوں کو نشانہ بنایا گا اور کئی گرجہ گھروں کو آگ لگا دی گئی۔
سنیچر سے جاری تشدد میں کندھمال اور گجپتی اضلاع میں گيارہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
اڑیسہ ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت کو حکم دیا ہے کہ وہ جمعہ تک عدالت میں رپورٹ داخل کرے اور یہ بھی بتائے کہ تشدد کے بعد متاثرہ
علاقوں کے کیا حالات ہیں۔
![]() |
|
| وی ایچ پی کے رہنما لکشمنانند کے قتل کے بعد تشدد کے واقعات پیش آئے |
اڑیسہ میں بھارتیہ جنتا پارٹی اور بیجو جنتا دل کی مخلوط حکومت ہے۔ وی ایچ پی کے رہمنا کے قتل کے بعد بی جے پی کے ایک وفد نے وزیر اعلی نوین پٹنایک سے مالات قات کی اور ان سے مطالبہ کیا کہ سوامی لکشمنانند کے قاتلوں کو جلد پکڑا جائے ،1967 کے مذہب تبدیل کرنے کی آزادی کے قانون کو نافذ کیا جائے۔ اور گائے کو ذبحہ کرنے کے خلاف قانون کو سختی سے نافذ کیا جائے۔