Wednesday, 27 August, 2008, 16:23 GMT 21:23 PST
ریاض مسرور
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سرینگر
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں مظاہرین پر فائرنگ کے تازہ واقعات میں مزید دو شہری ہلاک ہوگئے ہیں اور چار روز سے جاری کرفیو میں بدھ کو دو گھنٹے کا وقفہ دیا گیا۔
اس طرح اتوار کی شب سے نافذ کرفیو کے دوران ہلاک ہونے والے شہریوں کی تعداد نو ہوگئی ہے۔ اس سے قبل اتوار کو سرینگر میں غلام محمد حجام عرف راکٹ نائی، بانڈی پورہ میں شاہد احمد پہلو، بشیر بہار اور نسیمہ اشرف، نارہ بل میں شوکت احمد کھانڈے، پلوامہ میں سولہ سالہ طالب علم باسط بشیراور ہندواڑہ کی خاتون فہمیدہ فیاض مظاہروں کے دوران پولیس، فوج اور نیم فوجی عملے کی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے تھے۔
![]() |
|
| کرفیو میں نرمی کے دوران لوگوں نے بڑی مقدار میں روزہ مرہ استعمال کی اشیا خریدیں |
مقای ڈی ایس پی غلام جیلانی نےبتایا ہے کہ پولیس نے اس سلسلے میں کیس رجسٹر کیا ہے، اور محمد یوسف کی ہلاکت کی تفتیش کرینگے۔
اس دوران بڈگام ضلع کے سوئبگ گاؤں میں بھی اسی طرح کے ایک واقعہ میں فوج نے مشتعل مظاہرین پر فائرنگ کی جس میں ہلال احمد میر نامی شہری ہلاک جبکہ سات دیگر زخمی ہوگئے۔ جہلم ویلی ہسپتال کے ڈاکٹروں کو کہنا ہے کہ زخمیوں میں سے محمد امین وانی نامی شہری کی حالت انتہائی تشویشناک ہے۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ سوئبگ میں شام کو دو گھنٹے کی ڈھیل کے دوران مقامی نوجوان محمد رفیق کو فوج نے حراست میں لے کر پوچھ گچھ
کی جس پر سینکڑوں لوگوں نے احتجاج کیا۔
![]() |
|
| وقفے کے دوران کچھ راستہ بند رہتے ہیں |
اِدھر سرینگر اور بعض دیگر اضلاع میں بدھ کو کرفیو میں مرحلہ وار نرمی کی گئی، جس کے دوران لوگوں کی بڑی تعداد نے روزہ مرہ استعمال
کی اشیا کی خریداری کی۔ لیکن اس اثنا میں کئی مقامات پر لوگوں نے ہلاکتوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے بھی کیے، جن پر پولیس اور نیم
فوجی عملے نے اشک آور گیس کے درجنوں گولے داغے اور ہوا میں فائرنگ بھی کی گئی۔ ان واقعات میں پولیس کے مطابق سات افراد زخمی ہوگئے
ہیں۔
![]() |
|
| کرفیو میں وقفے کے دوران چیکنگ |