Tuesday, 26 August, 2008, 10:17 GMT 15:17 PST
سندیپ ساہو
اڑیسہ
ہندوستان کے صوبے اڑیسہ میں سخت گیر ہندو نظریاتی تنظیم وشو ہندو پریشد کی اپیل پر ہونے والی ہڑتال کے دوران پرتشدد واقعات میں ہلاکتوں کے بعد صوبے میں حالات کشیدہ ہيں۔
وشو ہندو پریشد نے پیر کو ہڑتال کی کال دی تھی اور اس دوران صوبے میں تشدد کے واقعات رونما ہوئے جس ميں چار افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
وی ایچ پی نے یہ کال سوامی لکشمن نند کی ہلاکت کے خلاف دی تھی۔ اس ہڑتال کے دوران عیسائی مذہب کے پیروکاروں کو نشانہ بنایا گیا اور کئی گرجا گھروں کو بھی نذر آتش کیا گيا۔
وی ایچ پی کی اس ہڑتال سے سب سے زیادہ کندھامل ضلع متاثر ہوا اور اب ضلع کے کئی علاقوں میں کرفیو نافذ ہے۔ کندھامل کے ضلعی مجسٹریٹ ڈاکٹر کرشن کمار نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے عیسائی مذہبی مقامات پر حملے کی تصدیق کی۔ ان کا کہنا تھا کہ’ضلع کے کئی علاقوں ميں حالات اب بھی کشیدہ ہيں‘۔
واضح رہے کہ سنیچر کی صبح کندھامل ضلع ميں نامعلوم مسلح افراد نے وی ایچ پی کے رہنما لکشمن نند سرسوتی کو ہلاک کر دیا تھا۔ ان کے ساتھ چار دیگر افراد بھی مارے گئے تھے۔ سوامی لکشمن نند کی ہلاکت کے خلاف پیر کو وی ایچ پی نے ہڑتال کا اعلان کیا جس کا خاصا اثر دیکھا گیا۔
اڑیسہ کے برگر ضلع ميں عیسائیوں کے ایک یتیم خانے کو بھی حملے کا نشانہ بنایا گيا تھا اس واقعہ میں وہاں کی ایک خاتون ملازم رجنی مانجھی ہلاک ہوگئی تھی۔برگر کے پولیس کمشنر اجے بسوال نے بتایا کہ ضلع کے کھونٹا پالی گاؤں میں تقریباً 700 سے 800 افراد نے یتیم خانے پر حملہ کیا۔
پولیس کشمنر کے مطابق بلوائیوں نے پہلے وہاں موجود سکیورٹی اہلکاروں کی پٹائی کی اور پھر یتیم خانے کو آگ لگا دی۔ جب بلوائیوں نے بچوں کو آگ میں ڈالنے کی کوشش کی تو رجنی نے اس کی مخالفت کی اور اس سے ناراض ہوکر فسادیوں نے رجنی مانجھی کو آگ میں ڈال دیا۔
واضح رہے گذشتہ برس دسبمر سے ہی اڑیسہ میں عیسائيوں اور سخت گیر ہندوؤں کے درمیان کشیدگی پائي جاتی ہے۔ ہندوؤں کا الزام ہے کہ عیسائي نچلی ذات کے دلتوں کو پیسے کا لالچ دے کر عیسائی بنا رہے ہیں اور وہ علاقے میں چرچ کی سرگرمیوں کو بھی بند کرنا چاہتے ہیں۔