http://bbc.com.im/urdu/

Saturday, 23 August, 2008, 08:13 GMT 13:13 PST

بینو جوشی
بی بی سی، جموں

امرناتھ تناز‏عہ، میٹنگ بےنتیجہ

امرناتھ زمین تناز‏عہ کا حل تلاش کرنے کے لیے جموں ميں سنیچر کو ہوئی میٹنگ بےنتیجہ رہی ہے۔اس میٹنگ میں امرناتھ یاترا سنگھرش سمیتی اور گورنر کے نمائندگان نے حصہ لیا۔

امر ناتھ سنگھرش سمیتی مندر بورڈ کو دی گئی زمین واپس لینے کے فیصلے کے خلاف گزشتہ تقریباً دو مہینے سے جموں میں امر ناتھ سنگھرش سمیتی تحریک کی سربراہی کر رہی ہے۔ اس تحریک میں اب تک بارہ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو چکے ہیں۔

میٹنگ کے بعد حکومت کی نماندگی کر رہے سدھیر سنگھ بولیریا نے صحافیوں کو بتایا ’ ہم نے اس سلسلے میں دوبارہ اجلاس کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘

تنازعہ کے حل کے لیے گورنر این این ووہرا نے پانچ نکاتی تجویز پیش کی تھی جس پر بات چیت کے لیے سنگھرش سمیتی رضامند ہو گئی تھی۔

اس تجویز ميں یاترا منعقد کرنا، مندر بورڈ کی دوبارہ تشکیل اور اسے مضبوط بنانا شامل ہے۔

مذاکرات میں سنگھرش سمیتی کی جانب سے چار نمائندگان حصہ لے رہے ہیں اور چار ہی نمائندگان حکومت کا موقف پیش کر رہے ہیں۔ حکومت کی جانب سے نمائندگان کی سربراہی ایس ایس بلے ریا کر رہے ہيں۔

لیکن جہاں ایک طرف مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوا ہے وہیں سنگھرش سمیتی تحریک کی مدت پچیس اگست تک پہلے ہی بڑھا چکی ہے۔

بدھ کو حالات کا جائزہ لینے کے لیے قرمی سلامتی کے مشیر ایم کے نارائنن بھی یہاں آئے تھے۔

حکومت نے بات چیت کا جو ایجنڈا دیا ہے اس میں’امر ناتھ گپھا یاترا‘ کے دوران بالتل علاقے سے دومیل کے درمیان آٹھ سو کینال زمین کو امرناتھ مندر بورڈ کو استعمال کرنے کی منظوری دینا بھی شامل ہے۔

ساتھ اس بات کہ بھی جائزہ لیا جائے گا کہ مندر بورڈ کو مختلف مقامات پر اور کتنی زمین کی ضرورت ہوگی۔ تاہم بورڈ کو دوبارہ تشکیل دیے جانے ، اس کے کردار اور اس کے حقائق پر بھی غور کیا جائے گا۔

واضح رہے گزشتہ پچاس دنوں سے جموں ميں اس معاملے پر پر تشدد احتجاج ہو رہے ہیں اور امرناتھ سنگھرش سمیتی نے پیر سے تین روز کی جیل بھرو تحریک شروع کی تھی۔

حکومت نے امرناتھ شرائن بورڈ کو زمین دینے کے بعد اسے واپس اس لیے لے لیا تھا کیوں کہ اس فیصلے کی مخالفت میں وادی میں پر تشدد احتجاج شروع ہو گئے تھے۔