http://bbc.com.im/urdu/

Wednesday, 20 August, 2008, 06:07 GMT 11:07 PST

بینو جوشی
بی بی سی، جموں

امرناتھ سمیتی: بات چيت کے لیے تیار

امرناتھ شرائن بورڈ کو زمین واپس دلانے کی جدوجہد کرنے والی امرناتھ سنگھرش سیمیتی نے تنازعہ کے حل کے لیے گورنر کی جانب سے پیش کی گئی پانچ نکاتی تجویز منظور کر لی ہے اور مذاکرات کے لیے تیار ہو گئی ہے۔

وہیں اس کمیٹی نے اپنا احتجاج پچیس اگست تک بڑھانے کا بھی اعلان کیا ہے۔ اس کے علاوہ طے شدہ پروگرام کے مطابق بدھ کو بھی مسلسل تیسرے دن احتجاجیوں کی جانب سے گرفتاریاں دینے کا سلسلہ جاری رہے گا۔

اس قسم کی بھی اطلاعات موصول ہوئی ہوئی ہیں کہ بدھ کو قومی سلامتی کے مشیر ایم کے نارائنن حالات کا جائزہ لینے کے لیے جموں کشمیر جا رہے ہیں۔

امرناتھ سنگھرش سمیتی کے ترجمان نریندر سنگھ نے بتایا ہے کہ حکومت کی جانب سے پانچ نکاتی تجویز ملنے کے بعد منگل کی رات سمیتی کی ایک ایمرجنسی میٹنگ طلب کی گئی جس میں گورنر کے مشیر سدھیر سنگھ بلوریا کی سربراہی میں چار رکنی کمیٹی سے مذاکرات کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

حکومت نے بات چیت کا جو ایجنڈا دیا ہے اس میں’امر ناتھ گپھا یاترا‘ کے دوران بالتل علاقے سے دومیل کے درمیان آٹھ سو کینال زمین کو امرناتھ مندر بورڈ کو استعمال کرنے کی منظوری دینا بھی شامل ہے۔

ساتھ اس بات کہ بھی جائزہ لیا جائے گا کہ مندر بورڈ کو مختلف مقامات پر اور کتنی زمین کی ضرورت ہوگی۔ تاہم بورڈ کو دوبارہ تشکیل دیے جانے ، اس کے کردار اور اس کے حقائق پر بھی غور کیا جائے گا۔

منگل کو حکومت کی جانب سے شرائن بورڈ سے زمین واپس لیے جانے کے فیصلے کے خلاف احتجاج کے طور پر ہزاروں افراد نے گرفتاریاں دیں۔

واضح رہے گزشتہ پچاس دنوں سے جموں ميں اس معاملے پر پر تشدد احتجاج ہو رہے ہیں اور امرناتھ سنگھرش سمیتی نے پیر سے تین روز کی جیل بھرو تحریک شروع کی ہوئی ہے۔

امرناتھ شرائن بورڈ کو چالیس ہیکٹر جنگلات کی زمین دینے جانے اور پھر اس فیصلے کو واپس لیے جانے کے خلاف احتجاج میں جموں خطے میں اب تک بارہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ کئی افراد زخمی ہو ئے ہیں۔

حکومت نے امرناتھ شرائن بورڈ کو زمین دینے کے بعد اسے واپس اس لیے لے لیا تھا کیوں کہ اس فیصلے کی مخالفت میں وادی میں پر تشدد احتجاج شروع ہو گئے تھے۔