Wednesday, 13 August, 2008, 19:10 GMT 00:10 PST
انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں اطلاعات کے مطابق کے پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں بیس سے پچیس لوگ زخمی ہو گئے ہیں جن میں سے کچھ کی حالت نازک ہے۔ ان میں سے زیادہ تر لوگ پلوامہ ضلع میں زخمی ہوئے۔
بی بی سی کے نامہ نگار الطاف حسین نے سرینگر سے بتایا کہ اطلاعات کے مطابق پلوامہ میں بعض لوگوں نے مرکزی رزرو پولس کے افسر پر
پتھر پھینکے جس کے بعد مزید پولیس وہاں پہنچ گئی اور انہوں نے لوگوں کے گھروں میں گھس ک زدو کوب اور تشدد کیا۔
سرینگر میں بھی ایک جلوس پر فائرنگ سے چار لوگ زخمی ہو گئے۔ سرینگر میں کئی مقامات پر انڈیا مخالف مظاہرے ہوتے رہے۔
الطاف حسین نے بتایا کہ رات گیارہ بجے کے قریب سرینگر میں بالکل وہی ماحول تھا جیسا انیس سو نوّے میں تھا۔ انہوں نےکہا کہ لوگ گھروں سے باہر آ کر مسجدوں میں اور سڑکوں پر جمع ہیں اور نعرے بازی کر رہے ہیں کیونکہ کئی مقامات سے پولیس کے لوگوں کے گھروں میں داخل ہونے کی خبریں آئی تھیں۔
انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں تازہ مظاہرے سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں تیرہ لوگوں کی ہلاکت کے ایک روز بعد ہوئے ہیں۔
جموں شاہراہ پر ہندو بلوائیوں کی ناکہ بندی کے خلاف پرتشدد احتجاجی مظاہروں میں تین دن میں انیس افراد ہلاک ہوئے۔ جبکہ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق صرف وادی میں گزشتہ دو روز میں چوبیس افراد مارے گئے ہیں۔
گزشتہ تیرہ برس میں یہ پہلا موقع ہے کہ کشمیر کے سبھی اضلاع میں ایک ساتھ کرفیو نافذ کیا گیا۔ تاہم سرینگر اور باڑگام میں بدھ کی صبح آٹھ بجے سے گيارہ بجے کے درمیان کرفیو میں نرمی دی گئی تھی۔
اس دوران سرینگر کے مہاراجہ ہری سنگھ ہسپتال اور شیر کشمیر انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے ایمرجنسی شعبوں سے وابستہ ڈاکٹروں نے کہا تھا کہ ہسپتالوں میں جموں۔سرینگر شاہراہ کی ناکہ بندی کے باعث ضروری ادویات اور طبی ساز و سامان کا فقدان ہے جس کی وجہ سے زخمیوں کی نگہداشت میں مشکلات درپیش ہیں۔
تاہم محکمہ داخلہ کے نگران حاکم انِل گوسوامی نے بتایا ’نیشنل ہائی وے پر کوئی بلاکیڈ (ناکہ بندی) نہیں ہے، اور مال بردار گاڑیاں برابر وادی آرہی ہیں اور یہاں سے جموں جا رہی ہیں‘۔
واضح رہے کشمیری میوہ کاشتکاروں اور میوہ صنعت سے جُڑے تاجروں نے گیارہ اگست کو جموں میں ہندو شدت پسند گروپوں کی طرف سے جموں۔سرینگر شاہراہ کی ناکہ بندی کے خلاف مظفرآباد روڈ کھولنے کے لیے ایک عوامی تحریک چھیڑدی جس کے دوران علیٰحدگی پسندوں اوردیگر عوامی حلقوں کی حمایت سے لاکھوں کی تعداد میں لوگ شمالی کشمیر میں کنٹرول لائن کے اُس مقام کی طرف مارچ کرنے لگے جہاں سے مظفرآباد کی طرف راستہ جاتا ہے۔
’مظفرآباد چلو‘ عنوان سے چلائی جارہی اس تحریک کے پہلے روز یعنی سوموار کو چھ مقامات پر فوج اور پولیس نے عوامی قافلے روکنے کی کوشش کی جس دوران مظاہرین مشتعل ہوگئے اور پولیس و فوج کی فائرنگ سے حریت رہنما شیخ عبدالعزیز سمیت چھ افراد ہلاک ہوگئے۔
شیخ عبدالعزیز کی ہلاکت سے پوری وادی اور جموں کے مسلم اکثریتی خطوں میں تناؤ پیدا ہوگیا اور منگل کو انتظامیہ نے پوری وادی میں کرفیو نافذ کر دیا، لیکن ہزاروں افراد نے کرفیو کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سرینگر کی جامع مسجد میں شیخ عزیز کی نماز جنازہ میں شرکت کی۔