Tuesday, 12 August, 2008, 14:05 GMT 19:05 PST
شکیل اختر
بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، دلی
ہندوستان نے اپنے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر پاکستان کے وزیر خارجہ کے بیان پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ وزرات خارجہ نے کہا ہے کہ اس طرح کے بیانات ہندوستان کے اندورنی معاملے میں ایک غیر ملک کی واضح مداخلت کے مترادف ہے۔
وزارت خارجہ کے ترجمان نوتیج سرنا نے ایک بیان ميں کہا ’پاکستان جموں و کشمیر میں احتجاج اور مظاہروں کی موجودہ صورت حال کو امن مذاکرات سے جوڑنے سے گریز کرے۔‘
وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ حکومت نے پاکستان وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا بیان پڑھا ہے اور اس طرح کا بیان قابل قبول نہیں ہے۔ ’ ان کا بیان ہندوستان کے ایک اٹوٹ حصے میں واضح مداخلت ہے۔‘
مخدوم شاہ محمود قریشی نے کل ایک بیان میں ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں بگڑتی ہوئی صورتحال پر تشویش ظاہر کی تھی۔ انہوں نے
وادی کشمیر ميں مظاہرین پر غیر ضروری طاقت کے استعمال کی مذمت کی تھی۔
|
|
پاکستان کے وزیر خارجہ کے اس بیان پر کہ امن کے عمل کو جاری رکھنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ تشدد سے پاک ماحول بنایا جائے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان نوتیج سرنا نے کہا ’اس طرح کے بیان سے مذاکرات کے عمل کے لیے فضا ساز گار نہیں ہو پاتی جو کہ ہندو پاک تعلقات کے لیے ضروری ہے۔‘
اس دوران کشمیر میں تشدد اور ہلاکتوں میں اضافے کے درمیان وزیر اعظم منموہن سنگھ امرناتھ شرائن بورڈ کو زمین منتقل کے تنازعہ کا کوئی متفقہ حل تلاش کرنے کے لیے بدھ کو کل جماعتی اجلاس طلب کیا ہے۔
دلچسپ پہلو یہ ہے کہ وزیر اعظم کی ایماء پر جو کل جماعتی وفد جموں میں ہندؤ رہنماؤں سے بات چیت کے لیے وہاں گیا تھا وہ بھی ابھی تک کسی فارمولے پر متفق نہیں ہو سکا ہے۔