Friday, 08 August, 2008, 10:28 GMT 15:28 PST
انڈیا کی حکومت نے پاکستان کی سینیٹ میں انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے حالات کے بارے میں قرارداد پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے ملک کے اندورنی معاملے میں مداخلت قرار دیا ہے۔
پاکستان کے خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق ’سینیٹ نے بدھ کو جموں و کشمیر کے مسلمانوں کے خلاف ہندو شدت پسندوں کی جانب سے اقتصادی ناکہ بندی کی حالیہ رپورٹ پر افسوس ظاہر کیا ہے۔ ساتھ ہی ہندو شدت پسندوں کی جانب سے مسلمانوں پر حملوں پر بھی تشویش ظاہر کی ہے۔‘
انڈیا کے وزارت خارجہ کے ترجمان نوتیج سرنا نے اس بیان پر سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم نے پاکستانی میڈیا میں پاکستانی سینیٹ کے جموں اور کشمیر کے بارے میں منظور کی گئی قرارداد پر رپورٹ دیکھی ہے۔ یہ ہمارے اندرونی معاملات میں دخل اندازی ہے۔‘
انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے جموں میں امرناتھ شرائن بورڈ کی زمین منتقلی کی واپسی کے معاملے پر گزشتہ کئی ہفتوں سے احتجاج
ہو رہا ہے۔
|
ہندوستان کا رخ
|
دریں اثناء جموں اور کشمیر میں فوج نے متنبہ کیا ہے کہ امرناتھ معاملے پر جاری احتجاج کا فائدہ اٹھا کر شدت پسند دوبارہ اپنی کارروائیاں کر سکتے ہیں۔
جنرل افسر کمانڈر لیفٹینٹ جنرل ونے شرما نے جموں میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پندرہ اگست تک کا وقت حساس ہے اور ہمیں خفیہ اداروں سے رپورٹ موصول ہوئی ہے کہ شدت پسند جموں کشمیر میں حملہ کرسکتے ہیں اس لیے ہم چوکنا ہیں۔
وہيں دِلّی میں وزیر اعظم منموہن سنگھ کی سربراہی میں جموں کشمیر کے حالات پر طلب کیے ایک کل جماعتی اجلاس میں فیصلہ کیا گيا ہے کہ سنیچر کو ایک کل جماعتی وفد جموں کا دورہ کرے گا۔ اس وفد میں وزیر خارجہ پرنب مکھرجی اور وزیر داخلہ شوراج پاٹل بھی شامل ہوں گے۔
واضح رہے کہ امرناتھ شرائن بورڈ زمین تنازع کے سبب ہندو اکثریت والے جموں اور مسلم اکثریت والے خطے کشمیر میں مظاہروں کے سبب اب تک متعدد افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے ہیں۔