Thursday, 31 July, 2008, 09:48 GMT 14:48 PST
ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں امراناتھ شرائن کو منتقل کی گئی زمین کی واپسی کے خلاف جموں خطے میں آٹھ روز سے جاری ہڑتال کو تین دنوں کے لیے مزید بڑھانے کا اعلان کیا گيا ہے۔
بھارتیہ جنتا پارٹی اور سخت گیر ہندو نظریاتی تنظیموں نے حکومت کے فیصلے کے خلاف احتجاج تیز کرنے کے لیے ہڑتال میں توسیع کا فیصلہ کیا ہے۔
ادھر امرناتھ یاترا سنگھرش سمیتی کے کنوینر لیلا کرن شرما کا کہنا ہے کہ وہ اس بارے میں ریاست کےگورنر کی طرف سے بلائی گئی میٹنگ میں شرکت کریں گے۔’ ہم ان کی بات سنیں گے لیکن ہماری طرف سے یہ بات پوری طرح واضح ہے کہ امرناتھ شرائن بورڈ کو منتقل کی گئی زمین بورڈ کو دوبارہ واپس کی جائے۔‘
ریاست کے گورنر نے احتجاج کرنے والی تنظیموں کو بات چیت کے لیے دعوت دی تھی۔ لیلا کرن شرما کا کہنا ہے کہ بات چیت کے لیے تاریخ جلدی ہی طے کی جائےگی۔’ لیکن ہم اپنے مقصد میں کامیابی کے لیے اپنے احتجاجی مظاہرے کو مزید تیز کریں گے۔‘
ہڑتال کے سبب دکانیں، تجارتی مراکز، تعلیمی ادارے اور بینک بند ہیں جبکہ سرکاری دفاتر میں بھی بہت کم تعداد میں لوگ آتے ہیں۔ جموں شہر کے کئی مقامات پر زبردست احتجاجی مظاہرے کیے گیے ہیں۔
امرناتھ سنگھرش سمیتی تقریباً تیس سماجی اور مذہبی تنظیموں کا سنگم ہے۔اس تنظیم میں بھاریتہ جنتا پارٹی بھی شامل ہے۔ ان کا مقصد شرائن بورڈ سے واپس لی گئی زمین کو دوبارہ حاصل کرنا ہے۔
گزشتہ ایک ہفتے سے جاری مظاہروں کا آغاز اس وقت ہوا جب گزشتہ بدھ کو ایک 20 سالہ نوجوان کلدیپ کمار ڈوگرا نے شرائن بورڈ کے لیے زمین کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کو مزید تیز کرنے کی غرض سے خود کشی کر لی تھی۔
واضح رہے کہ زمین منتقلی کے خلاف مظاہرے گزشتہ یکم جولائی سے جاری ہیں اور اب تک اس میں دو افراد ہلاک اور تقریباً تین سو زخمی ہوچکے ہیں۔