Thursday, 31 July, 2008, 09:29 GMT 14:29 PST
گجرات کےشہر آحمدآباد میں سلسلہ وار بم دھماکوں کے تفتیش کے لیے گجرات پولیس آندھرا پردیش کی دھماکہ خیز مادہ بنانے والی کمپنی ایکسپلوزیو پرائیوٹ لمیٹڈ سے پوچھ گچھ کے لیے حیدرآباد پہنچ گئی ہے۔
احمد آباد دھماکوں میں استمعال ہونے ڈیٹونیٹر پر اس کمپنی کی ہی مہر لگی ہے۔
گجرات پولیس جمعرات کو کمپنی کے مالکان اور مینجمنٹ سے تفتیش کے لیے حیدرآباد پہنچ گئی ہے۔
یہ کمپنی حیدرآباد سے 120 کلومیٹر دور نالگونڈا ضلع کے مومالامارام گاؤں میں واقع ہے۔
یہ نجی کمپنی بڑی تعداد میں دھماکہ خیز مادہ بناتی ہے۔
اس سے قبل مئی 2008 میں جے پور شہر میں ہونے والے بم دھماکے بعد بھی کمپنی سے راجستھان پولیس نے پوچھ گچھ کی گئی تھی کیونکہ اس دھماکے میں استمعال ہونے والے دھماکہ خیز مادے پر بھی اس ہی کمپنی کی مہر تھی۔
حیدرآباد کے پولیس کمشنر بی پرساد راو کا کہنا ہے ’ہمیں معلوم ہے کہ گجرات پولیس دھماکوں کی تفتیش کے سلسلے میں کمپنی سے پوچھ گچھ کرنے والی ہے لیکن مجھے نہیں لگتا کہ کمپنی کا ان دھماکوں سے کوئی تعلق ہے کیونکہ کمپنی اپنے ڈیٹونیٹرز لائنسس رکھنے والے ڈیلرز کو ہی سپلائی کرتی ہے۔‘
امید کی جارہی ہے کہ راجستھان پولیس کی طرح ہی گجرات پولیس بھی کمپنی کے مینجمنٹ سے اس کے ڈیلرز کے نیٹورک سے متعلق سوالات کرے گی۔
آندھرا پردیش کے نالگونڈا ضلع میں دو درجن ایسی فیکٹریاں ہیں جہاں دھماکہ خیز مادہ بنایا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ کوئمبٹور دھماکے اور سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کے قتل میں مبنیہ طور پر یہیں بنا ہوا دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا تھا۔
سنیچر کو احمد آباد میں ہونے والے سلسلہ وار بم دھماکوں ميں 49 افراد ہلاک اور کم از کم ایک سو پچاس افراد زخمی ہوئے تھے۔
اب تک دھماکوں کے سلسلے میں کوئی اہم سراغ نہیں ملا ہے۔ پیر کو حزب اختلاف کی جماعت بی جے پی نے براہ راست بنگلور اور احمد آباد دھماکوں کے لیے حکومت کو ذمہ دار قرار دیا تھا۔
دھماکوں کے بعد گجرات کے تجارتی شہر سورت میں اٹھارہ بم ملے تھے۔