Tuesday, 29 July, 2008, 08:20 GMT 13:20 PST
ریاض مسرور
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سرینگر
پاکستان اور بھارت کے درمیان متنازعہ علاقے کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر سوموار کے روز دونوں ملکوں کی افواج کے درمیان جھڑپ کی مشترکہ طور پر تحقیق کرنے کے لیے علاقے میں تعینات فوجی کمانڈروں کی فلیگ میٹنگ کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔
سرینگر میں تعینات ہندوستانی فوج کی پندرہویں کور کے ترجمان کرنل انِل کمار ماتھُر نے بی بی سی کوبتایا ’دونوں طرف کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشن آج بات کرینگے اور اس واقع کے اسباب کی جانچ کے لئے دونوں طرف کے متعلقہ کمانڈروں کو ہدایات دینگے۔‘
ماتھُر کے مطابق پیر کے روز نوگام سیکٹر میں کنٹرول لائن کی دوسری جانب سے پاکستانی افواج نے ہلکے ہتھیاروں سے فائرنگ کرتے ہوئے ہندوستانی زیرانتظام علاقہ میں داخل ہونے کی کوشش کی، لیکن جوابی کارروائی میں ان کی کوشش کو ناکام بنادیا گیا۔
اس حملے میں ہندوستانی افواج کی راجپوتانہ رائفلز کا ایک جوان مارا گیا۔
ماتھر کا مزید کہنا تھا ’فلیگ میٹنگ کے دوران پاکستان کو سیز فائر کی خلاف ورزیوں کی تفصیل دی جائے گی۔‘
دریں اثنا کپوارہ میں تعینات ایک فوجی بریگیڈئر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ’دراصل کافی عرصہ سے نوگام سیکٹر کے ہی کہیاں بھاول علاقے میں ایک فوجی چوکی تنازعہ کا باعث بنی ہوئی تھی اور اس پر دونوں حق جما رہے تھے۔ اسی پوسٹ پر قبضہ کرنے کے لیے پاکستانی فوج نے یہ کارروائی کی ہوگی۔‘
تاہم فوجی ترجمان نےاپنے بیان میں بتایا کہ اس حملے کا مقصد مسلح شدت پسندوں کو وادی میں داخل کرانا اور یہاں گڑ بڑ پھیلانا تھا۔
قابل ذکر ہے کہ اس واقعہ سے صرف دو روز قبل یعنی چھبیس جولائی کو ہندوستان اور پاکستان کی افواج نے ایک دوسرے پر سیز فائر کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا تھا۔ اسی برس فروری میں پاکستان میں نئی حکومت کے قیام کے بعد سے دونوں ملکوں کی فوج ایک دوسرے پر ایسے الزامات لگاتی رہی ہے۔