Tuesday, 29 July, 2008, 14:12 GMT 19:12 PST
شکیل اختر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
ہندوستان میں کانگریس حکومت پر احمدآباد بم دھماکوں کا الزام لگانے کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی اب اپنے بیان سے پیچھے ہٹ گئی ہے۔
پارٹی کے سینئر رہنما ایل کے اڈوانی کے مشیر سدھیندھر کلکرنی نے بی بی سی کو بتایا کہ پارٹی کی سینئر ترجمان سشما سوراج نے حمکراں کانگریس کے بارے میں جو باتیں پیر کو کہيں تھیں۔ وہ ان کے ذاتی خیالات تھے اور ان سے پارٹی کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
سشما سوارج نے پیر کو بی جے پی کے صدر دفتر پر پارٹی کی باضابطہ نیوز کانفرنس میں یہ الزام لگایا تھا کہ مسلمانوں کا ووٹ حاصل کرنے اور اعتماد کے ووٹ کے دوران رشوت دہی کے معاملے سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لیے احمدآباد کے دھماکوں کی سازش حکومت نے کی تھی۔
ماہر قانون پر شانت بھوشن کا کہنا ہے کہ حزب اختلاف کی جماعت نے صحیح وقت پر اس بیان سے لاتعلقی کا اعلان کر دیا ہے ورنہ وہ قانونی طور پر مشکل میں پڑ سکتی تھی۔’ اگر کانگریس چاہے تو وہ سشما سوراج کے خلاف مجرمانہ کردار کشی کا مقدمہ دائر کر سکتی ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ الزام اگر چہ بہت سنگین ہے لیکن عموما سیاسی جماعتيں ایک دوسرے کے خلاف مقدمات دائر کرنے سے گریز کرتی ہيں۔
|
|
ان کا کہنا تھا’ سشما سوراج نے کوئی چھوٹی موٹی بات نہیں کہی تھی انہوں نے بہت سنگین الزامات لگائے تھے۔ لیکن نہ تو ان کی پارٹی میں اب کوئی اس بیان کو مسترد کر رہا ہے اور نہ ہی کوئی قبول کرنے کے لیے تیار ہے۔‘
حمکراں کانگریس نے بھی کل کے ابتدائی ردعمل کے بعد اس بیان کو پوری طرح سے نظر انداز ہی کردیا ہے۔
بیشتر اخبارات نے بھی سوارج کے الزام کو اہمیت نہیں دی ہے۔ لیکن روز نامہ ٹائمز آف انڈيا اور انڈين ایکپریس نے سوراج کے بیان پر صدمے کا اظہار کرتے ہوئے لکھاہے کہ بی جے پی جماعتی سیاست میں بالکل نیچے کی سطح پر پہنچ گئی ہے۔